پاکستان میں کرونا سے مزید 45 اموات
پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار مزید 45 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ملک میں عالمی وبا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 10 ہزار 863 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 40 ہزار 359 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2417 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
عالمی وبا کے شکار 2294 ایسے مریض ہیں جن کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
پاکستان میں چار لاکھ 69 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب ہوئے ہیں اور ملک میں اب تک 72 لاکھ 84 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
برازیل میں آکسیجن کی شدید قلت، کرونا کے مریض دم گھٹنے سے مرنے لگے
برازیل کی ریاست ایمیزوناز کو آکسیجن کی شدت کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں میں موجود کرونا وائرس کے مریض دم گھٹنے سے ہلاک ہو رہے ہیں۔
ریاست میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں پر شدید دباؤ ہے اور آکسیجن کی طلب میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
حکام کی جانب سے جمعرات کو صحافیوں کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق آکسیجن کی قلت کے سبب لوگ اسپتالوں میں دم گھٹنے سے مر رہے ہیں۔
ریاستی کانگریس کے رکن مارسیلو راموس نے بتایا کہ حکومت نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر آکسیجن کے سلینڈرز سے بھرا ایک فوری ٹرانسپورٹ طیارہ دارالحکومت میناؤس بھیجے۔
یاد رہے کہ عالمی وبا سے امریکہ اور بھارت کے بعد برازیل دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اب تک دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرونا لاک ڈاؤن کے باوجود فضائی آلودگی میں متوقع کمی نہیں ہو سکی
کرونا وائرس کے پھیلنے کے باعث دنیا بھر میں لگائے گئے لاک ڈاؤنز سے فضا میں کچھ بہتری تو آئی مگر ماہرین کے مطابق بہت سے شہروں کی فضا بدستور مضرِ صحت رہی۔
لاک ڈاؤن کے آغاز میں اگرچہ بہت سے شہروں میں فضا صاف ہوئی مگر سائنس دانوں نے جب ڈیٹا کا مشاہدہ کیا تو انکشاف ہوا ہے کہ بہت سے مضرِ صحت ذرات فضا میں بدستور موجود رہے۔
سائنس دانوں کے مطابق فضا میں بہتری کچھ جگہوں میں ہوئی، جب کہ بہت سے شہروں کی فضا میں بہتری امید کے مطابق نہیں آئی۔
سال 2020 کے آغاز میں چین کے شہر ووہان سمیت دیگر شہروں میں چینی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر لگائے گئے لاک ڈاؤن کے بعد سیٹیلائٹ کی مدد سے دیکھا گیا کہ فضا میں نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی۔
چین: سالِ نو پر چھٹیاں نہ منانے والے کارکنوں کے لیے اضافی مراعات
چین میں ہر سال فروری کے مہینے میں نیا قمری سال شروع ہوتا ہے۔ اس موقع پر سالانہ چھٹیوں کا بھی اعلان کیا جاتا ہے۔ تاہم اس بار مقامی حکومتوں اور فیکٹریوں نے اپنے عملے کو چھٹیوں سے روکنے کے لیے بہت سی مراعات کا اعلان کیا ہے۔
مراعات میں اضافی تنخواہ، تحائف، تفریح اور نئے سال پر مفت دعوتیں شامل ہیں۔
مراعات کا اعلان کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے، منافع ضائع ہونے اور ممکنہ طور پر لاک ڈاؤن کے خوف کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
نئے سال کی آمد کے موقع پر ملک بھر سے 28 کروڑ افراد مختلف شہروں کا سفر کرتے ہیں جن میں اکثریت دیہی علاقوں میں رہنے والے کارکنوں کی ہوتی ہے۔ یہ افراد اپنے خاندان سے دور دوسرے شہروں میں نوکریاں کرتے ہیں اور نئے سال کے موقع پر ہی اپنے اہل خانہ سے ملنے گھر واپس آتے ہیں۔
گزشتہ برس سال نئے سال کے موقع پر ہونے والی تعطیلات کے دوران شہریوں کے سفر کرنے کی وجہ سے کرونا وائرس تیزی سے پھیلا جب کہ بہت سے کارکن کئی مہینوں تک اپنے علاقوں میں پھنس گئے اور واپسی پر انہیں طویل عرصے تک قرنطینہ اور لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔
تعطیلات کے بعد ملازمین کے فیکٹریوں میں نہ پہنچنے کے باعث فیکٹریوں میں کام معمول سے کم رہا جس کے باعث صنعتی پیداوار میں کمی آئی اور مزدوروں کو کئی کئی ماہ تک بغیر آمدنی کے گزارا کرنا پڑا۔
کمپنیاں عام طور پر نئے سال پر ہونے والے جشن کے دوران کام کرنے والے افراد کو زیادہ اجرت دیتی ہیں لیکن اس سال مقامی حکومتوں اور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ملازمین کو کہیں زیادہ مراعات دینا ہوں گی۔
چین کے زیادہ تر صوبوں نے وبائی امراض کے کنٹرول کی اہمیت کے ساتھ ساتھ صنعتی اور سپلائی چین کے استحکام کی ضمانت دیتے ہوئے کارکنوں کو شہروں سے باہر نہ جانے کی ترغیب دیتے ہوئے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔