پاکستان سے کرونا ویکسین کی فراہمی کی درخواست موصول نہیں ہوئی: بھارت
پاکستان کو کرونا ویکسین فراہم کرنے سے متعلق بھارت کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے ابھی تک اسلام آباد سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستوا کا جمعے کو کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی طرف سے بھارت کی ویکسین کی فراہمی سے متعلق کی گئی درخواست سے آگاہ نہیں ہیں۔
بھارت اب تک کرونا ویکسین ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش، نیپال، میانمار، بھوٹان اور مالدیپ کو عطیہ کر چکا ہے۔ جب کہ افغانستان اور سری لنکا کے حکام کی طرف سے ویکسین کی منظوری دیے جانے کے بعد ان دو ممالک کو ویکسین عطیہ کی جائے گی۔
پاکستان سے ویکسین کی فراہمی سے متعلق درخواست کیے جانے پر بھارت کے ردِ عمل سے متعلق سوال پر انوراگ کا کہنا تھا کہ یہ سوال مفروضات پر مبنی ہے اور وہ اس کا جواب نہیں دینا چاہتے۔
خیال رہے کہ چین نے پاکستان کو کرونا وائرس کی 5 لاکھ خوراکیں دینے کی حامی بھری ہے۔
کرونا کی نئی قسم قدرِ مہلک ہونے کا اندیشہ
برطانیہ میں حکام نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم ممکنہ طور پر ابتدائی وائرس سے قدرے زیادہ خطرناک اور مہلک ہو سکتی ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کا صحافیوں سے گفتگو میں بھی کہنا تھا کہ شواہد موجود ہیں کہ نئی قسم کے وائرس کی وجہ سے زیادہ اموات ہو سکتی ہیں۔
برطانیہ میں سائنس کے مشیر پیٹرک ویلنس کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم 30 فی صد زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس بارے میں زیادہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
پیٹرک کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی ابتدائی قسم سے 60 سال سے زیادہ عمر والے ایک ہزار لوگوں میں 10 افراد کی موت واقع ہوتی تھی۔ جب کہ ان کے بقول کرونا وائرس کی نئی قسم سے یہ اموات 13 سے 14 تک ہو سکتی ہیں۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق برطانیہ میں اب تک اس وبا سے 35 لاکھ 94 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 96 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
ہانگ کانگ کے گنجان آباد علاقے میں سخت لاک ڈاؤن نافذ
ہانگ کانگ کے گنجان آباد علاقے میں کرونا وائرس کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے ہفتے سے پہلا لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے ہزاروں شہریوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے۔
جورڈن نامی علاقے میں لگ بھگ 10 ہزار لوگوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہاں مقیم افراد کو اپنی رہائش گاہ صرف اس صورت چھوڑنے کی اجازت ہو گی جب وہ کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کریں گے۔
حکام کے مطابق اس علاقے کے رہائشیوں کے 48 گھنٹوں میں کرونا ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ تا کہ کرونا وائرس پر مکمل طور پر قابو پایا جا سکے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے سیکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ دو ماہ سے ہانگ کانگ میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر جاری ہے اور حکام یومیہ کیسز پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسٹرازینیکا کو پیداواری مسائل کا سامنا، یورپ کو ویکسین کی ترسیل میں کمی
کرونا ویکسین بنانے والی برطانوی کمپنی 'اسٹرا زینیکا' نے یورپی یونین کے حکام کو مطلع کیا ہے کہ پیداواری مسائل کی وجہ سے کمپنی یورپی یونین کو فرام کی جانے والی ویکسین کی خوراکوں میں 60 فی صد کمی کرتے ہوئے اب صرف تین کروڑ 10 لاکھ خوراکیں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں فراہم کر سکے گی۔
اس سے قبل امریکی کمپنی ‘فائزر’ اور جرمن کمپنی ‘بائیو این ٹیک’ کی جانب سے بھی یورپی یونین کو کہا گیا تھا کہ ویکسین کی رسد کو بڑھائے جانے کے لیے درکار اقدامات کی وجہ سے ویکسین کی یورپی یونین کو فراہمی کم کی جا رہی ہے۔
اسٹرازینیکا سے ہونے والے مذاکرات میں حصہ لینے والے حکام کے مطابق کمپنی نے کرونا وائرس کی 8 کروڑ خوراکیں 27 یورپی ممالک کو رواں سال مارچ کے اختتام تک فراہم کرنی تھیں۔
تاہم حکام کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی ابتدائی معاہدے کے مطابق کرونا وائرس کی فراہمی 15 فروری تک شروع کر دے گی۔
خیال رہے کہ یورپی یونین کا اسٹرازینیکا سے کم از کم 30 کروڑ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ ہوا تھا جب کہ معاہدے میں 10 کروڑ اضافی خوراکیں بھی شامل تھیں۔