کیا کرونا اور کرپشن میں کوئی تعلق ہے؟
دنیا بھر میں کرپشن پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کچھ ملکوں میں کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے سسٹم کی خرابیاں سامنے آئی ہیں۔ پاکستان میں کیا صورتِ حال ہے اور کیا کرونا اور کرپشن کے درمیان کوئی تعلق ہے؟ جانیے ماہرِ معاشی امور ڈاکٹر قیصر بنگالی سے۔
میری توجہ کرونا کے خاتمے پر ہے، بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے سینیٹ میں اپنے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جاری مواخذے کی کارروائی پر کہا ہے کہ اُن کی توجہ اس ٹرائل پر نہیں بلکہ کرونا وائرس کے خاتمے پر ہو گی۔
منگل کو وائٹ ہاؤس کے 'اوول آفس' میں ایک نشست کے دوران جب صحافیوں نے صدر بائیڈن سے سوال کیا کہ کیا وہ سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں؟ اس پر بائیڈن کا کہنا تھا کہ نہیں، وہ ایسا نہیں کر رہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم پہلے ہی کرونا وائرس کے باعث ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ اموات کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اگر ہم نے فوری طور پر ٹھوس اقدامات نہ کیے تو اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے بچے بھوکے ہیں اور متعدد خاندانوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ ایسے تمام افراد مشکل میں ہیں جن کا ازالہ میری ذمہ داری ہے۔
جنوبی افریقہ کا ویکسین کے لیے جانسن اینڈ جانسن سے معاہدہ
جنوبی افریقہ کے محکمۂ صحت کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے انسداد کے لیے ویکسی نیشن مہم میں امریکی کمپنی جانسن اینڈ جانسن کی تیار کردہ ویکسین استعمال کی جائے گی۔
جنوبی افریقہ نے جانسن اینڈ جانسن کو 90 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے کا آرڈر دیا ہے جن میں سے بعض خوراکیں آئندہ ہفتے ملنے کی توقع ہے۔
وزیرِ صحت سویلی مخیز نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ جانسن اینڈ جانسن کی تیار کردہ ویکسین کرونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف مؤثر ہے اور پہلے مرحلے میں مقامی سطح پر ویکسین کا جائزہ لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جنوبی افریقہ میں رواں ہفتے آکسفورڈ اور ایسٹرازینیکا کی تیار کردہ ویکسین لگانے کا عمل شروع ہونا تھا۔ تاہم مقامی یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے بعد ویکسی نیشن مہم کو معطل کر دیا گیا تھا۔
یونیورسٹی کے مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایسٹرازینیکا کی ویکسین جنوبی افریقہ میں پائی جانے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف صرف 22 فی صد تک مؤثر ہے۔
کرونا وائرس کی تیزی سے پھیلتی نئی اقسام
کرونا وائرس کی نئی اقسام نے اس کے خلاف ویکسینز کی افادیت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانیہ میں سامنے آنے والی قسم اب تک 55 ممالک میں پائی گئی ہے جب کہ 23 ممالک میں جنوبی افریقی قسم کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ کرونا وائرس کی ان نئی خطرناک اقسام سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟ جانتے ہیں صبا شاہ خان سے۔