ڈبلیو ایچ او کی ووہان میں تحقیقات مکمل، وائرس کی ابتدا کا سراغ نہ مل سکا
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے محققین کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔
امریکہ نے عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کی تحقیقات کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹیم کی جانب سے استعمال کیے گئے ڈیٹا کو خود دیکھنا چاہتا ہے۔
چین نے بدھ کو امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کو اپنے ملک میں بھی کرونا وائرس کی ابتدا پر تحقیق کرنے کی دعوت دے۔
عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم نے ووہان میں کرونا وائرس کے آغاز پر چین میں تحقیقات کے بعد اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کا آغاز ووہان کی لیبارٹری سے نہیں ہوا اور یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کا پھیلاؤ چمگادڑوں کے ذریعے ہوا۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وینگ وین بن نے بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ امریکہ چین کی طرح شفاف رویہ اختیار کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کو امریکہ میں کرونا وائرس کی ابتدا پر تحقیق کرنے دے۔
کرونا ویکسین لگوانے پر چرس کا سگریٹ مفت
امریکی ریاست مشی گن کا ایک اسٹور کرونا ویکسین لگوانے والوں کو چرس کا سگریٹ مفت دے رہا ہے۔
پاکستان میں رواں ماہ کے 10 دن میں پانچ سو سے زائد افراد ہلاک
فروری کے ابتدائی 10 دن میں پاکستان میں کرونا وائرس سے پانچ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 57 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 12 ہزار 185 ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ جنوری 2021 کے آخری ہفتے سے پاکستان میں وبا سے اموات کی شرح ایک بار پھر بڑھ گئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری کے ابتدائی دس دن میں پاکستان میں وبا سے 502 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
جرمن کمپنی بائیو این ٹیک نے ویکسین کی تیاری کے لیے نیا پلانٹ لگا لیا
یورپ میں کرونا ویکسین کی طلب میں اضافے کے پیشِ نظر جرمن دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک نے ماربرگ قصبے میں ویکسین کی تیاری کے لیے نیا پلانٹ لگا لیا ہے۔
کمپنی نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جرمن حکام کی معاونت سے ماربرگ میں فوری طور پر نیا پلانٹ لگایا گیا ہے جہاں ویکسین کی پروڈکشن شروع ہو گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے یونٹ سے تیار ہونے والی ویکسین کے پہلے آرڈر کی ترسیل اپریل کے اوائل میں متوقع ہے۔
یورپین میڈیسن ایجنسی مذکورہ پلانٹ میں تیار ہونے والی ویکسین کی کوالٹی کا جائزہ لے گی جس کے بعد اس کی ترسیل کی اجازت دی جائے گی۔