'عوام کو کرونا ویکسین کے محفوظ ہونے سے آگاہ کریں گے'
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے صحت کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم اموات کی ایک وجہ نوجوان آبادی کا زیادہ ہونا بھی ہے۔ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کو در پیش چیلنجز پر مزید جانیے ڈاکٹر فیصل سلطان کی وائس آف امریکہ کے نذر الاسلام سے گفتگو میں۔
ویکسین پاسپورٹ کا حصول، غریب ممالک کے شہری کیا کریں گے؟
اسرائیل کے شہر تل ابیب میں حال ہی میں ایک کلب میں 300 افراد نے ایک محفلِ موسیقی میں شرکت کی جس میں موسیقار ابیب گیفن نے پیانو بجا کر داد موصول کی۔
اس محفل میں شائقین نے سماجی دوری اختیار کی اور ماسک پہن رکھے تھے۔
پیر کی شام ہونے والی اس محفل میں انہی لوگوں نے شرکت کی جن کے پاس گرین پاسپورٹ تھے جس سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ ان لوگوں کو کرونا وائرس کی یا تو ویکسین مل چکی ہے یا ایسے افراد کرونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
جہاں اس محفل کو موسیقار گیفن نے کرشمے سے تعبیر کیا۔ وہیں یہ گرین پاسپورٹ ابھی تک سب لوگوں کو میسر نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق یہ کانسرٹ مستقبل کی پیش بندی کر رہا تھا۔ دنیا بھر کی حکومتوں کا کہنا ہے کہ ویکسی نیشن کے بعد دستاویز کی مدد سے سفر، انٹرٹینمنٹ اور سماجی محافل کا راستہ کھل جائے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے فیصلہ سازوں کو خدشہ ہے کہ اس سے دنیا دولت اور ویکسین تک غیر مساوی رسائی کی وجہ سے مزید تقسیم ہو جائے گی۔
اسرائیل میں اس وقت دنیا کی سب سے تیز رفتار ویکسین مہم جاری ہے۔ ملک میں گرین پاسپورٹ ایک ایپ کے ذریعے ملتے ہیں۔
اسرائیل نے حال ہی میں یونان اور قبرص کے ساتھ معاہدے کیے ہیں کہ یہ ممالک ایک دوسرے کے گرین پاسپورٹ کو قبول کریں گے۔ اس سے ان ممالک کے درمیان سیاحت اور سفر میں اضافہ ہو گا۔
پاکستانیوں نے کرونا بحران کا پہلا سال کیسے گزارا؟
پاکستان میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت 18 مارچ 2020 کو رپورٹ ہوئی تھی۔ البتہ پہلا کیس فروری کے آخر میں سامنے آیا تھا۔ اب تک اس سے ملک بھر میں تقریباََ 13 ہزار اموات جبکہ پونے چھ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس ایک سال کے دوران طبی عملے اور عوام نے وبا کا سامنا کیسے کیا؟
امریکہ کے ایوانِ نمائندگان سے 1.9 ٹریلین ڈالر کا کرونا ریلیف پیکیج منظور
امریکی ایوان نمائندگان نے صدر جو بائیڈن کا پیش کردہ 1.9 ٹریلین ڈالر کا کرونا امدادی پیکیج منظور کر لیا ہے۔ اس پیکج کے ذریعے کاروبار، مقامی حکومتوں اور عالمی وبا سے مالی مشکلات کا شکار ہونے والے شہریوں کی مدد کی جائے گی۔
قانون سازوں نے ہفتے کو پارٹی لائن پر ووٹ دیتے ہوئے یہ امدادی پیکیج 212 کے مقابلے میں 219 ووٹ سے منظور کیا۔
واضح رہے کہ امریکہ کے ایوانِ زیریں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت ہے۔ 20 جنوری کو صدارت سنبھالنے کے بعد یہ قانون سازی میں صدر جو بائیڈن کی پہلی کامیابی ہے۔
کرونا امدادی پیکیج اب امریکہ کے 100 سینیٹ میں پیش ہو گا جہاں دونوں جماعتوں کے پاس 50، 50 ووٹ ہیں۔ البتہ کسی بھی صورت میں ووٹنگ برابر ہونے پر نائب صدر کاملا ہیرس ٹائی بریکر ووٹ کے ذریعے فیصلہ کر سکتی ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کا مؤقف تھا کہ امریکہ کی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے یہ امدادی پیکیج بہت ضروری ہے۔ امریکہ میں وبا کی وجہ سے اب تک پانچ لاکھ 10 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ری پبلکن پارٹی کا مؤقف ہے کہ 1900 ارب ڈالرز کا امدادی پیکیج بہت بڑا پیکیج ہے۔