پی ایس ایل 6: مزید 2 غیر ملکی کھلاڑی کرونا کا شکار
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پی ایس ایل 6 کے لیے بائیو ببل کا حصہ رہنے والے مزید تین افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی ہے۔ کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پی ایس ایل کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی نے منگل کو نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ آسٹریلوی کھلاڑی فواد احمد کے بعد مزید دو غیر ملکی کھلاڑیوں اور ایک سپورٹنگ اسٹاف کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ کھلاڑیوں کو 10 روز تک قرنطینہ میں رہنا پڑے گا تاہم دیگر کھلاڑیوں کو آئسولیشن میں رہنے کا نہیں کہا۔
آسٹریلوی کھلاڑی فواد احمد کا پیر کو کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر اس روز کھیلا جانے والا اسلام آباد یو نائیٹڈ اور ملتان سلطانز کے درمیان میچ منسوخ کر دیا گیا تھا جو منگل کو شیڈول ہے۔
ایونٹ میں مجموعی طور پر 34 میچز کھیلے جانے ہیں اور اب تک 11 میچز کھیلے جا چکے ہیں۔
عالمی سطح پر کرونا کیسز میں پھر اضافہ
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ گزشتہ سات ہفتوں کے دوران پہلی مرتبہ عالمی سطح پر کرونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے کرونا کیسز میں ایک بار پھر بڑی تعداد میں تیزی آ سکتی ہے۔
کرونا وائرس پر ڈبلیو ایچ او کی تکنیکی ٹیم کی سربراہ ماریا وین کرخوو نے پیر کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ "ہمیں سخت احتیاط کی ضرورت ہے، اگر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے سلسلے میں احتیاط نہ کی گئی یہ دوبارہ پھیل سکتا ہے۔"
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبراسس کا کہنا ہے کہ کرونا کیسز میں حالیہ اضافہ چار خطوں میں سامنے آیا ہے جن میں امریکہ، مشرقی بحیرہ روم، یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی وبا میں ایک مرتبہ پھر اضافہ مایوس کن ہے مگر حیران کن نہیں۔ کیسز کے حالیہ اضافے کی وجہ حفاظتی اقدامات میں سستی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر مائیکل رایان کہتے ہیں اس وقت وائرس کافی حد تک کنٹرول میں ہے اور یہ سوچنا حقیقت کے برعکس ہے کہ عالمی وبا رواں برس کے اختتام تک ختم ہو جائے گی۔
کئی ماہ تک قابلِ استعمال رہنے والا ماحول دوست ماسک
کرونا وبا کے دوران فیس ماسک اب روز مرہ کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ جیب پر اضافی بوجھ ہونے کے ساتھ ساتھ آلودگی بھی بڑھا رہے ہیں۔ کراچی کے کچھ نوجوانوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے کئی ماہ تک قابلِ استعمال رہنے والا ماحول دوست ماسک بنایا ہے۔ مزید جانتے ہیں سدرہ ڈار اور خلیل احمد کی اس رپورٹ میں۔
جاپان: کرونا ویکسین کی ایک ہزار سے زیادہ خوراکیں خراب
جاپان نے کرونا ویکسین کی ایک ہزار سے زیادہ خوراکیں خراب ہونے کی تصدیق کی ہے اور اس کی تحقیقات کا بھی عندیہ دیا ہے۔
جاپان کی وزارتِ صحت نے منگل کو کہا ہے کہ دوا ساز کمپنی فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین گزشتہ دنوں ریفریجریٹر خراب ہونے پر ناکارہ ہو گئی تھیں۔
فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین 60 سے 80 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھی جانی تھی۔
جاپانی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریفریجریٹر میں خرابی کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں البتہ جس کمپنی نے ریفریجریٹر تیار کیا تھا اس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔
یاد رہے کہ جاپان میں کرونا ویکسی نیشن ناکارہ ہونے کا واقعہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب اسے پانچ ماہ بعد ٹوکیو اولمپکس کی میزبانی کرنا ہے۔
جاپان میں 17 مئی سے شروع ہونے والی ویکسی نیشن مہم کے دوران اب تک 32 ہزار ڈاکٹروں اور نرسوں کو پہلی خوراک دی جا چکی ہے۔
جاپانی ریگولیٹرز کی جانب سے ویکسی نیشن پروگرام کے سلسلے میں صرف فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کی ہی منظوری دی گئی ہے۔