پی ایس ایل تو مکمل نہ ہوسکا، بھارت آئی پی ایل کے کامیاب انعقاد کے لیے پر امید کیوں؟
کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کو حال ہی میں ملتوی کرنا پڑا۔ لیکن اب بھارتی کرکٹ بورڈ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے کامیاب انعقاد کے لیے پرامید ہے۔
بورڑ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) نے اتوار کو آئی پی ایل 2021 کے شیڈول کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق ایونٹ کا باقاعدہ آغاز 9 اپریل کو ہو گا اور فائنل احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں 30 مئی کو کھیلا جائے گا۔
آئی پی ایل کو دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ کا درجہ حاصل ہے جس میں مختلف ملکوں کے کئی نامور کھلاڑی حصہ لیتے رہے ہیں۔
اس بار بھی کئی بڑے نام لیگ کا حصہ ہیں لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں ایک جانب پاکستان کی مقامی لیگ متاثر ہوئی وہیں بھارت میں آئندہ ماہ شیڈول آئی پی ایل کے انعقاد اور اس کے مستقبل کے بارے میں کرکٹ کے حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔
بیس فروری سے شروع ہونے والی پی ایس ایل کے محض 14 میچز ہی کھیلے گئے تھے کہ غیر ملکیوں سمیت لیگ میں شامل سات افراد کرونا کا شکار ہوئے۔ کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے چار مارچ کو ایونٹ ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
پشاور: عدل میں رکاوٹ کی وجہ کرونا یا کچھ اور؟
پاکستان میں نظام عدل کی سست روی پر ہمیشہ سے تنقید ہوتی رہی ہے جہاں اکثر سائلین کو انصاف کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کرونا وائرس سے عدالتیں کتنی متاثر ہوئیں؟ دیکھیے پشاور سے عمر فاروق کی اس رپورٹ میں۔
پاکستان میں آٹھ دن میں 386 افراد ہلاک
پاکستان میں مارچ کے ابتدائی آٹھ دن میں کرونا وائرس سے 386 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 54 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 13 ہزار 281 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ اموات کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ دو مارچ کو 75 اموات ہوئی تھیں جو کہ یکم جنوری کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔
امریکہ: سینیٹ کے منظور کردہ 19 کھرب ڈالر کے کرونا ریلیف بل میں کیا ہے؟
امریکی سینیٹ نے صدر جو بائیڈن کے تجویز کردہ 19 کھرب ڈالرز کے کرونا ریلیف بل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم کرونا وبا اور امریکیوں کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے خرچ کی جائے گی۔ ری پبلکن پارٹی نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔
ہفتے کو کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد سو رُکنی سینیٹ نے 49 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے بل کی منظوری دی۔ ایوانِ نمائندگان پہلے ہی اس بل کی منظوری دے چکا ہے۔
البتہ، سینیٹ نے بل میں کئی تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔ جس کے لیے یہ بل دوبارہ ایوانِ نمائندگان میں بھجوایا جائے گا جہاں آئندہ ہفتے اس پر ووٹنگ ہو گی۔
ووٹنگ کے بعد صدر بائیڈن اس بل پر دستخط کریں گے جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
حکمراں جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ بل کرونا وبا کو شکست دینے اور معیشت کی بحالی میں مددگار ثابت ہو گا۔
البتہ، حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلکن پارٹی کا مؤقف ہے کہ اس بل میں ضرورت سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔
اس امدادی پیکیج کی مد میں جہاں ویکسین اور طبی اشیا کے اخراجات کو پورا کیا جائے گا۔ وہیں اکثر شہریوں کو 1400 ڈالر فی کس کی ادائیگی بھی کی جائے گی۔