پاکستان میں متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ سے متجاوز، ساڑھے 18 ہزار زیرِ علاج
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 2701 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد چھ لاکھ 198 ہو گئی ہے۔
متاثرہ افراد میں سے پانچ لاکھ 68 ہزار صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 13 ہزار 430 اموات ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں اب بھی 18 ہزار 703 افراد زیرِ علاج ہیں جن میں سے 1709 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
حکام نے پاکستان میں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں اضافے کی بھی تصدیق کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 6.5 رہی۔
واضح رہے کہ ملک میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک شہری نے کسی رشتہ دار یا قریبی دوست کو کھویا: سروے
امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک شہری کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے انہوں نے اپنے کسی رشتہ دار یا قریبی دوست کو کھویا ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' اور شکاگو یونیورسٹی کے نیشنل اوپینیئن ریسرچ سینٹر کے ایک نئے سروے میں مختلف آرا سامنے آئیں۔
ایک طرف تو وائرس کے بارے میں عوام کی پریشانی ختم ہو رہی ہے جب کہ دوسری جانب سوگ منانے والے افراد محفوظ رہنے کے لیے مسلسل جدوجہد پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
سروے کے مطابق ایسے میں جب کہ ویکسینز اس وبا کے خاتمے کے لیے حقیقی امید دلا رہی ہیں۔ پھر بھی ہر تین میں سے ایک امریکی ویکسین لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ویکسین نہ لگوانے والوں کے لیے سروے میں سامنے آیا کہ سب سے زیادہ ہچکچاہٹ نوجوان بالغ افراد، کالج کی ڈگری نہ رکھنے والے افراد اور ری پبلکن پارٹی کے ارکان میں نظر آتی ہے ۔
کرونا وائرس: سابق صدر کی ویکسی نیشن پر خصوص ویڈیو
امریکہ کے چار سابق صدور ایک نئی اشتہاری مہم میں حصہ لے رہے ہیں جس کا مقصد کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
ایڈ کونسل کی تیار کردہ ویڈیو میں سابق صدر بل کلنٹن کا کہنا ہے کہ ہم کافی لوگوں کو کھو چکے ہیں اور ہمیں کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اس اشتہار میں بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہلیری کو ایک تصویرمیں ویکسین لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سابق صدر جارج ڈبلیو بش کا کہنا ہے کہ وبا سے جان چھڑانے کے لیے ضروری ہے کہ شہری ویکسین لیں۔
ویڈیو میں کلنٹن کی طرح بش اور ان کی اہلیہ لارا کو انجیکشن کے ذریعے ویکسین لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور اسی طرح سابق صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما، سابق صدر جمی کارٹر اور ان کی اہلیہ روزلین بھی شامل ہیں۔
سابق رہنما ویکسین لینے کے بعد اپنے محفوظ ہونے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
اوباما کا کہنا تھا کہ وہ مشیل کی والدہ سے گلے ملنا اوران کی سالگرہ کے موقع پر اکھٹا ہونا چاہتے ہیں۔
جارج بش نے کہا کہ وہ ٹیکساس رینجرز کے اسٹیڈیم میں پورے ہجوم کے درمیان میجر لیگ بیس بال کے سیزن کا آغاز دیکھنے کے منتظر ہیں۔
جمی کارٹر کے پیغام پر اشتہار کا خاتمہ ہوتا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ (فیصلہ) آپ پر منحصر ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اشتہار میں شامل نہیں ہیں۔ وہ گزشتہ برس کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج بھی رہے تھے۔
ویڈیو میں ناظرین کو ایک ایسی ویب سائٹ کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جس میں مختلف دستیاب ویکسینز کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔
برطانیہ میں وبا کی سامنے والی قسم مہلک قرار
اقوامِ متحدہ کی جانب سے کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔
وبا کا ایک سال مکمل ہونے پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم دیگر تمام اقسام سے زیادہ مہلک ہے۔
'برٹش میڈیکل جرنل' میں بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی برطانوی قسم کا نشانہ جو افراد بنے ہیں، ان میں دیگر اقسام سے متاثر ہونے والوں کے مقابلے میں موت کا امکان 64 فی صد زیادہ ہے۔
گزشتہ ستمبر میں جنوب مشرقی برطانیہ سے پھیلنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم اب دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں پہنچ چکی ہے۔ اس سے قبل ہونے والی ریسرچز میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ قسم کرونا وائرس کی اصل قسم سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔
دوسری طرف اقوامِ متحدہ کی جانب سے کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ اس موقع پر برازیل میں کرونا وائرس سے ایک ہی دن میں ریکارڈ 2286 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔