پاکستان میں مسلسل ساتویں روز دو ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
پاکستان میں کرونا وائرس کے مزید 2351 کیس سامنے آئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز سامنے آنے والے کیسز کے بعد زیرِ علاج افراد کی تعداد 22 ہزار 792 ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ سات روز سے مسلسل دو ہزار سے زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ قبل ازیں کیسز کی شرح میں کسی حد تک کمی آئی تھی۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں لگ بھگ 39 ہزار ٹیسٹ کیے گئے جن میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح چھ فی صد رہی۔
کشمیر: تعلیمی ادارے کھل گئے مگر بیش تر طلبہ غائب
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے باعث بند تعلیمی اداروں کو تقریباً ایک سال بعد مرحلہ وار اور مختلف احتیاطی تدابیر کے ساتھ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ لیکن والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے کترا رہی ہے۔ دیکھیے سری نگر سے زبیر ڈار اور یوسف جمیل کی رپورٹ۔
کرونا ویکسین کے بچوں پر تجربات، چھ ماہ سے 12 سال تک کے بچے شامل
کرونا وائرس کی ویکسین بنانے والی کمپنی موڈرنا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے چھ ماہ سے 12 سال تک کی عمر کے بچوں پر ویکسین کے تجربات شروع کیے ہیں۔
امریکہ کے اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کے مطابق موڈرنا کی خاتون ترجمان کولین ہسی کا کہنا ہے کہ ویکسین کے اثرات کے مطالعے کے لیے امریکہ اور کینیڈا میں چھ ہزار سات سو سے زائد صحت مند بچوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔
ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان 6750 بچوں میں سے کتنے بچوں کو ویکسین کی پہلی ڈوز دی جا چکی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے 'این پی آر' کی رپورٹ کے مطابق موڈرنا کی ویکسین ابھی 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو دی جا رہی ہے۔ جن بچوں کو ویکسین دی جائے گی محققین ان کا جائزہ لیں گے کہ ویکسین کے ان پر ویکسین کے کیا اثرات رہے ہیں۔ اور ان بچوں کو ویکسین کی اثر پذیری میں مشکلات کا سامنا تو نہیں کرنا پڑ رہا۔
رپورٹ کے مطابق محققین ویکسین کے حوالے سے یہ بھی جائزہ لیں گے کہ یہ بچوں کو کرونا وائرس کی نئی اقسام سے محفوظ رکھنے میں کس قدر مدد گار ثابت ہو گی۔
'وبا کا خاتمہ ابھی دور ہے اور لوگوں کے لیے محتاط رہنا ضروری ہے'
امریکہ میں امراض کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) کی ڈائریکٹر نے حالیہ ایام میں امریکہ میں سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کا خاتمہ ابھی دور ہے اور لوگوں کے لیے محتاط رہنا ضروری ہے۔
وائٹ ہاؤس میں وبا کی رسپانس ٹیم کے ایک حصے کے طور پر ورچوئل بریفنگ کے دوران سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیل والنسکی نے کہا کہ گزشتہ جمعے کو 13 لاکھ سے زائد افراد نے ہوائی سفر کیا تھا جو ایک سال قبل وبا کے آغاز کے بعد سے ایک دن میں سفر کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
روشیل والنسکی نے کہا کہ انہوں نے ملک بھر میں مختلف مقامات پر لوگوں کو بغیر ماسک کے موسمِ بہار سے لطف اندوز ہونے والوں کی کوریج دیکھی۔ جب کہ اس وقت بھی ملک میں ایک دن میں کرونا وائرس کے 50 ہزار نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے توجہ دلائی کہ امریکہ میں یہ صورتِ حال ایک ایسے وقت پر سامنے آ رہی ہے جب بہت سے یورپی ممالک میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالاں کہ اس سے پہلے ان ممالک میں نئے کیسز میں کمی دیکھی گئی تھی اور عوام نے وائرس کے خاتمے کے ضروری قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا۔
والنسکی کا کہنا تھا کہ عوام یورپ کے تجربے سے سبق سیکھ کر تجویز کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہیں اور ویکسین لینے کے لیے تیار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تو بہتری کی صورت کا آغاز ہوا ہے۔ اعداد و شمار درست سمت کی طرف گامزن ہیں لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم سب کو اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا ہے۔