رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:15 23.3.2021

امریکی حکام کا ایسٹرازینیکا کے ٹرائل ڈیٹا پر شکوک و شہبات کا اظہار

امریکہ کے قومی ادارہ برائے الرجی اور متعدی امراض (این آئی اے آئی ڈی) نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ آکسفرڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی 'ایسٹرازینیکا' نے اپنے تازہ ٹرائل میں نامکمل اور پرانا ڈیٹا استعمال کیا۔

امریکی حکام کے اس خدشے کے بعد حال ہی میں تنازع کا شکار ہونے والی برطانوی دوا ساز کمپنی کو ایک نئی صورتِ حال کا سامنا ہے۔

تاحال اس معاملے پر 'ایسٹرازینیکا' کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

امریکی حکام کا یہ بیان 'ایسٹرازینیکا' کے امریکہ میں توقعات سے بہتر نتائج سامنے آنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ میں بھی اس ویکسین کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں بعض یورپی ممالک نے 'ایسٹرازینیکا' ویکسین کے استعمال کے بعد بلڈ کلوٹ یعنی خون جمنے کی شکایات کے بعد اس کا استعمال روک دیا تھا۔

البتہ، یورپی یونین کے ڈرگ ریگولیٹرز کی یقین دہانی اور دوا کے محفوظ ہونے کے بعد ویکسین کا استعمال دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔

17:43 23.3.2021

برطانیہ میں پہلے لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل

برطانیہ میں منگل کو کرونا وائرس کے باعث لگنے والے پہلے لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔

لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل ہونے اور اس مہلک وبا کے باعث ہلاک ہونے والے کی یاد میں پارلیمنٹ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ برطانیہ میں اس وبا کے باعث اب تک ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے 23مارچ 2020 کو ابتدائی طور پر تین ہفتوں کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت تک برطانیہ میں اس وبا کے باعث 335 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

برطانیہ کو حال ہی میں کرونا کی نئی قسم کا سامنا تھا جس کے باعث ملک میں تیسری مرتبہ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا تھا۔ اب تک ملک میں وائرس کے مجموعی کیسز 43 لاکھ 15 ہزار سے زائد ہوچکے ہیں۔

16:10 23.3.2021

امریکہ: فضائی سفر میں ایک ہفتے کے دوران اضافہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ میں فضائی سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے مطابق اتوار کو مختلف ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کی اسکریننگ سے 15 لاکھ مسافر گزرے جو مارچ 2020 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

امریکہ نے گزشتہ برس 13 مارچ کو کرونا وبا کے باعث ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ کیا تھا جس کے بعد فضائی سفر محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ تاہم اتوار کو 15 لاکھ سے زیادہ افراد نے فضائی سفر کیا اور یہ مسلسل گیارہواں روز تھا جب فضائی مسافروں کی یومیہ تعداد 10 لاکھ سے زیادہ تھی۔

عالمی وبا کے باعث ایئر لائن کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ 2020 میں فضائی سفر میں 60 فی صد تک کمی واقع ہوئی۔

امریکہ میں اس وقت اُن غیر امریکی شہریوں کے داخلے پر پابندی ہے جو برازیل، جنوبی افریقہ اور چین کا سفر کر چکے ہیں جب کہ بہت سے یورپی ممالک نے بھی امریکیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

14:18 23.3.2021

امریکہ: سی ڈی سی کا کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ میں بیماریوں پر قابو پانے اور تحفظ کے ادارے (سی ڈی سی) کی ڈائریکٹر روشیل والینسکی نے ملک میں کرونا کیسز میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کرونا بریفنگ کے دوران بتایا کہ کئی ریاستوں نے کرونا پابندیوں میں نرمی کی ہے اور ملک بھر میں سفر میں بھی اضافہ ہوا ہے جسے دیکھتے ہوئے کیسز میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکہ میں کرونا کیسز کی مجموعی تعداد دو کروڑ 96 لاکھ سے زیادہ ہے جب کہ عالمی وبا سے اب تک پانچ لاکھ 40 ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

روشیل والینسکی کے مطابق امریکہ میں گزشتہ سات روز کے دوران اوسطاً یومیہ کیسز 53 ہزار 800 سے زائد رپورٹ ہوئے جب کہ دو ہفتوں میں یومیہ کیسز کی اوسط 50 سے 60 ہزار کے درمیان رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں اور بالخصوص ریاست کیلی فورنیا میں وائرس کی نئی اقسام کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں وائرس کی نئی قسم کے 52 فی صد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار تمام امریکیوں کے لیے ایک انتباہ ہونا چاہیے کہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی۔

امریکہ میں وبا کی روک تھام کے لیے ویکسی نیشن مہم بھی جاری ہے اور اب تک لگ بھگ 12 کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے جن میں سے بعض دو خوراکیں لے کر کورس مکمل کر چکے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG