کرونا کے باعث ٹی بی کے خلاف کوششوں کو شدید نقصان
وائس آف امریکہ کا مستقل سلسلہ 'لائف 360' صحت مند زندگی گزارنے کے بارے میں معلومات پر مشتمل ہے۔ آج کا موضوع ٹی بی یا تپ دق کے بارے میں ہے۔ کرونا وائرس کی وبا نے ٹی بی کے خلاف کوششوں کو کس طرح متاثر کیا ہے؟ اس بارے میں جانتے ہیں صبا شاہ خان کی اس ویڈیو میں۔
بھارت میں کیسز میں اضافہ، ٹنڈولکر بھی وبا سے متاثر
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سابق مایہ ناز بلے باز سچن ٹنڈولکر نے بھی ہفتے کو وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ وہ وبا سے محفوظ رہنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے تھے۔ تاہم ان میں وبا کی معتدل علامات پائی جاتی ہیں۔
ان کے بقول ان کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے۔
ٹنڈولکر کا مزید کہنا تھا کہ گھر کے دیگر افراد کے کرونا ٹیسٹ منفی آئے ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔ وہ ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔
بھارت میں ہفتے کو 62 ہزار سے زائد مزید کییسز رپورٹ کیے گئے جو کہ پچھلے سال اکتوبر کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
بھارت مییں اب تک ایک کروڑ 19 لاکھ افراد وبا سے متاثر اور ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شادی ہال بند: مالکان، ملازمین، تقریبات کرنے والے سب پریشان
کرونا وائرس کے باعث کھلے مقامات پر شادی کی تقریب کرنے جیسے قواعد و ضوابط نے عمارتوں کے اندر موجود شادی ہالوں کی انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا۔ کچھ نے تو ہال کے آس پاس خالی جگہ سے فائدہ اُٹھایا۔ البتہ جن ہالز کے پاس ایسی سہولت نہیں تھی وہ کیا کر رہے ہیں؟ دیکھیے ثمن خان کی رپورٹ میں۔
'ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں پابندیاں مزید سخت کرنی پڑیں'
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمرکا کہنا ہے کہ جس طرح کرونا وائرس پھیل رہا ہے تو ہو سکتا ہے کہ حکومت کو پابندیاں مزید سخت کرنی پڑیں۔
این سی او سی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ کرونا کی تیسری لہر کے دوران لوگوں کو شاید ابھی تک اندازہ نہیں ہوا کہ ہم کتنی خطرناک صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کیسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ برطانوی قسم کی پاکستان میں موجودگی ہے۔ جو زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اور زیادہ مہلک بھی ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ کیسز میں اگر اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو آئندہ ہفتے تک ہم وبا کی پہلی لہر کے عروج کی سطح عبور کر جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا کی تیسری لہر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ روز 2842 مریض انتہائی تشویشناک حالت میں موجود تھے۔
اسد عمر نے کہا کہ کرونا پابندیوں پر جس طرح سے عمل ہونا چاہیے، ویسے نہیں ہو رہا۔