بھارتی کشمیر میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نئی پابندیاں
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام نے سری نگر کے پبلک پارکس بھی بند کر دیے ہیں۔
اتوار کو بھارتی کشمیر میں کرونا کے 2381 کیس رپورٹ ہوئے تھے جو وبا کے آغاز سے اب تک کی سب سے زیادہ یومیہ تعداد ہے۔
مجموعی طور پر اب تک بھارتی کشمیر میں ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد لوگ کرونا وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
انتظامیہ نے وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 15 مئی تک تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے ہیں۔ کرونا کی تشویش ناک صورتِ حال کی وجہ سے بھارتی کشمیر میں سیاحوں کی آمدورفت بھی تعطل کا شکار ہے۔
ویکسی نیشن کرانے والے امریکی سیاح گرمیوں میں یورپ آ سکیں گے
یورپین کمیشن کی سربراہ ارسلا واندر لین نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ویکسین لگوانے والے امریکی سیاحوں کو یورپ آنے کی اجازت ہو گی۔
اتوار کو 'نیو یارک ٹائمز' کو دیے گئے انٹرویو میں ارسلا واندر لین نے سیاحوں کو اجازت دینے کے کسی ٹائم فریم کا اعلان نہیں کیا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ موسمِ گرما میں اس حوالے سے نئے قوانین بنائے جائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی شہریوں کو وہ ویکسین لگائی جا رہی ہے جس کی منظوری یورپین میڈیسن ایجنسی نے بھی دی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی سیاحوں کو یورپ آنے کی اجازت دینے کا اطلاق تمام 27 رُکن ممالک پر ہو گا۔
ارسلا واندر لین کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ویکسی نیشن مہم منظم انداز میں جاری ہے اور جون تک وہاں 70 فی صد افراد کو ویکسین لگا دی جائے گی۔
سندھ میں تعلیمی ادارے بدستور بند رہیں گے: مرتضیٰ وہاب
وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پیشِ نظر صوبے میں تمام اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند رہیں گی۔
مرتضیٰ وہاب نے اپنے ایک ٹوئٹ میں مزید بتایا کہ صوبے کے تمام سرکاری دفاتر میں 20 فی صد ضروری عملے کو آنے کی اجازت ہو گی۔
سندھ میں نئی پابندیوں کا اعلان
پاکستان کے صوبے سندھ کی حکومت نے کرونا کیسز میں اضافے کے باعث کاروباری مراکز شام چھ بجے اور 29 اپریل سے انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں کووڈ-19 ٹاسک فورس کے اجلاس کے دوران کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
وزیرِاعلیٰ ہاؤس کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹس کے مطابق صوبے بھر میں سرکاری دفاتر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ سیکریٹریز کو اپنے ضروری اسٹاف کو بلانے کی اجازت ہو گی۔
اس کے علاوہ عوام کے سرکاری دفاتر میں آنے پر پابندی ہو گی جب کہ جیلوں میں قیدیوں سے ملاقات کرنا بھی منع ہو گا تاہم اسپتال اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریستورانوں میں اِن ڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ پر پابندی ہو گی۔ تاہم ٹیک اوے اور ڈیلوری جاری رہے گی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نےخبردار کیا ہے کہ کیسز میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو بازار مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ آفس کے اوقات کار صبح نو سے دو بجے تک ہوں گے۔ ان کے بقول صوبے میں گڈز ٹرانسپورٹ اور صنعتیں ایس او پیز کے ساتھ کھلی رہیں گی۔