پاکستان میں تین ہزار 300 سے زائد نئے مریض
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران مزید 161 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 37 ہزار 587 ٹیسٹ کیے گئے جس میں تین ہزار 377 میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔
ملک میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 8.98 فی صد رہی۔
پاکستان میں مجموعی طور پر آٹھ لاکھ سے زائد کرونا کیسز اور 18 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
ملک میں کرونا کے فعال کیسز 86 ہزار 151 ہیں جس میں پانچ ہزار 326 افراد نگہداشت کی حالت میں ہیں۔
بھارت میں تین ہزار 449 افراد ہلاک
بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید تین لاکھ 57 ہزار 229 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں منگل کو مزید تین ہزار 449 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
بھارت میں منگل کو نئے کرونا کیسز کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ملک میں عالمی وبا سے ہونے والی اموات دو لاکھ بیس ہزار سے زائد ہیں۔
انڈونیشیا میں کورونا وائرس کے بھارتی ویرینٹ کی تشخیص
پیر کو انڈونیشیا کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ وائرس کی تبدیل شدہ قسم کی تشخیص کے دو کیسز میں سے ایک بھارت سے جکارتہ آنے والے فرد میں سامنے آئی ہے جب کہ دوسرا کیس جنوبی افریقہ سے بالی آنے والے فرد میں سامنے آیا ہے۔
وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ دونوں کیسز میں B.1.617 ویرینٹ کی تشخص ہوئی ہے۔ یہ ویرینٹ سب سے پہلے بھارت میں سامنے آیا تھا۔
انڈونیشیا نے گزشتہ مہینے 14 دن کے عرصے میں بھارت کا سفر کرنے والے غیر ملکیوں کو ویزے کا اجرا روک دیا تھا۔
بھارت میں تین لاکھ 68 ہزار سے زائد نئے کیس
بھارت کی وزارت صحت کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید تین لاکھ 68 ہزار 147 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ تین ہزار 417 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں دو لاکھ 18 ہزار 969 ہوگئی ہیں۔
بھارت میں کرونا وائرس کے 34 لاکھ مریض زیرِ علاج ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کرونا سے متعلق اعدادوشمار 10 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
کرونا وبا کی شدت جاری رہنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے اسپتالوں میں بستروں، طبی سامان، دواؤں اور آکسیجن کی قلت بھی برقرار ہے۔
یومیہ ہلاکتوں کے باعث مردہ خانوں اور آخری رسومات کی ادائیگی کے مقامات پر بھی جگہ کم پڑگئی ہے۔
وبا کی شدت کے باعث اسپتالوں پر دباؤ کی وجہ سے پیر کو حکومت نے نرسوں اور ڈاکٹروں کے امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔
اس کے علاوہ زیرِ تربیت طبی عملے کو کرونا وائرس کا علاج کرنے والے اہل کاروں اور عملے کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔