بھارت میں یومیہ کیسز اور اموات کا نیا ریکارڈ
بھارت میں کرونا کی دوسری لہر کے دوران نئے کیسز کی تعداد میں بدستور اضافہ جاری ہے۔ ملک میں چار لاکھ 12 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے شکار تین ہزار 980 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
بھارت میں کرونا کیسز کی مجموعی تعداد دو کروڑ دس لاکھ 77 ہزار سے زائد ہے۔
امریکہ کی کرونا ویکسین کی تیاری کے لیے جملہ حقوق ختم کرنے کی حمایت
امریکہ نے عالمی وبا کرونا ویکسین کی تیاری کے لیے جملہ حقوق ختم کرنے کی حمایت کی ہے۔
امریکہ کی تجارتی نمائندہ سفیر کیتھرین ٹائی نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ "غیر معمولی وقت اور حالات میں غیر معمولی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔"
انہوں نے کہا کہ امریکہ ویکسین کے جملہ حقوق سے متعلق حفاظت پر پختہ یقین رکھتا ہے لیکن وبا کے خاتمے کے لیے ویکسین کی تیاری کے لیے جملہ حقوق کو ختم کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے عالمی تجارتی تنظیم (وی ٹی او) کے ساتھ مذاکرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور ان مذاکرات میں وقت لگے گا کیوں کہ اس کے ساتھ پیچیدہ مسائل منسلک ہیں۔
جگمگاتی تقریبات سے خالی سڑکوں تک، ہالی وڈ فوٹو جرنلسٹ کی ڈائری سے ایک صفحہ
امریکہ پچھلے برس مارچ میں جب عالمی وبا سے متاثر ہونا شروع ہوا تو ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹو جرنلسٹ کرس پزیلو کے پاس کام بالکل ختم ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو عجیب و غریب حالات میں گھرا پایا. وہ انٹرٹینمنٹ سے محروم دور میں انٹرٹینمنٹ فوٹوگرافر تھے۔ ان کے مطابق، اس برس انہیں نت نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کرس پزیلو نے پچھلے ہفتے لاس اینجلس کے ایک یونین اسٹیشن میں منعقد ہونے والے آسکرز ایوارڈ کی تقریب کی کوریج بھی کی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے لکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہالی وڈ کی کرونا کی وجہ سے تبدیل ہو جانے والی دنیا میں ایک سال سے پہلے آخری معمول کی رات میں انہوں نے بس ایک جوڑے کو ہی ماسک پہنے دیکھا۔
انہوں نے لکھا کہ یہ اتنا انوکھا ضرور تھا کہ انہوں نے فوراً ہی اس کی تصویر بنا لی تھی۔ انہیں بالکل نہیں پتہ تھا کہ آگے چل کر سب کو ہی ایسے ماسک پہننے پڑیں گے۔
امریکی مساجد میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ عبادات کا دوبارہ آغاز
امريکہ ميں بھی کرونا وائرس نے زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کيا ہے۔ گزشتہ برس کئی مساجد کرونا وبا کی وجہ سے بند کر دی گئی تھيں مگر اس سال ويکسي نيشن کے بعد لوگوں نے ماہ رمضان ميں ايک بار پھر مساجد کا رخ کيا ہے۔ مونا کاظم شاہ کی رپورٹ۔