رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

08:53 21.6.2021

چین سے سائنوویک ویکسین کی 15 لاکھ سے زائد خوراکیں پاکستان پہنچ گئیں

ویکسین کی 15 لاکھ سے زائد خوراکیں پاکستان لائی گئی ہیں۔
ویکسین کی 15 لاکھ سے زائد خوراکیں پاکستان لائی گئی ہیں۔

چین سے کرونا وائرس کی ویکسین سائنو ویک کی 15 لاکھ 50 ہزار سے زائد خوراکیں لے کر خصوصی طیارہ اتوار کو اسلام آباد پہنچ گیا۔

پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے 'ریڈیو پاکستان' کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی نے بتایا کہ ویکسین کی یہ خوراکیں چین کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت پاکستان لائی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین نے پاکستان کو بلاتعطل ویکسین کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ مزید برآں آئندہ ہفتے چینی ویکسین کی مزید 20 سے 30 لاکھ خوارکیں پاکستان پہنچ جائیں گی۔

08:39 21.6.2021

امریکہ کا تائیوان کو کرونا ویکسین کی 25 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے کا اعلان

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تائیوان کو کرونا ویکسین کی 25 لاکھ خوراکیں فراہم کر رہا ہے۔

ویکسین کی یہ تعداد اس سے پہلے اعلان کردہ ساڑھے سات لاکھ خوراکوں سے کہیں زیادہ ہے۔

تائیوان کی صدر سائی انگ وین نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اضافی ویکسین کا مہیا کرنا دوستی کی علامت ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ دنیا بھر میں کرونا کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے کروڑوں کی تعداد میں ویکسین کی خوراکیں مہیا کرے گا۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار تک کرونا وبا نے دنیا بھر میں 17 کروڑ اسی لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے اور اب تک تقریباً 40 لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔

مزید پڑھیے

21:49 19.6.2021

بھارت میں کرونا کی صورتِ حال بہتر، بلیک فنگس کا خطرہ برقرار

بھارت کے کئی بڑے شہروں میں کرونا وائرس کے کیسز نیچے آنے سے معمول کی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔ لیکن بلیک فنگس نامی بیماری نے طبی نظام کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ مزید دیکھیے بھون گوسوامی کی رپورٹ میں۔

بھارت میں کرونا کی صورتِ حال بہتر، بلیک فنگس کا خطرہ برقرار
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:19 0:00

21:48 19.6.2021

امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کھولنے کے امکانات میں اضافہ

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سرحد کھولنے کا باضابطہ اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔ تقریباً 9 ہزار کلومیٹر طویل سرحد، جس پر آرپار جانے کے لیے 117 سرکاری گزرگاہیں ہیں، گزشتہ سال مارچ میں کرونا وائرس کی عالمی وبا پھیلنے کے بعد غیر ضروری سفر کے لیے بند کر دی گئی تھی۔

دنیا کی اس سب سے طویل سرحد کی بندش کو ہرمہینے بڑھایا جاتا رہا ہے، جس کی موجودہ مدت پیر کے روز ختم ہو رہی ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق وبا شروع ہونے سے پہلے ہر روز چار لاکھ کے لگ بھگ افراد اسے عبور کرتے تھے اور اس سرحد کے ذریعے روزانہ دو ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی تھی۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اشارہ دیا ہے کہ سرحد کھولنے کا عمل بتدریج ہو گا اور اس کا انحصار کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں پر ہو گا۔

وینکوور میں واقع سائمن فریسر یونیورسٹی میں گلوبل ہیلتھ شعبے کی پروفیسر کیلی لی کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ غیرضروری مقاصد کے لیے سرحد عبور کرنے والوں کو چار کیٹیگریز میں ڈالا جائے گا۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG