چین سے سائنوویک ویکسین کی 15 لاکھ سے زائد خوراکیں پاکستان پہنچ گئیں
چین سے کرونا وائرس کی ویکسین سائنو ویک کی 15 لاکھ 50 ہزار سے زائد خوراکیں لے کر خصوصی طیارہ اتوار کو اسلام آباد پہنچ گیا۔
پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے 'ریڈیو پاکستان' کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی نے بتایا کہ ویکسین کی یہ خوراکیں چین کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت پاکستان لائی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین نے پاکستان کو بلاتعطل ویکسین کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ مزید برآں آئندہ ہفتے چینی ویکسین کی مزید 20 سے 30 لاکھ خوارکیں پاکستان پہنچ جائیں گی۔
امریکہ کا تائیوان کو کرونا ویکسین کی 25 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے کا اعلان
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تائیوان کو کرونا ویکسین کی 25 لاکھ خوراکیں فراہم کر رہا ہے۔
ویکسین کی یہ تعداد اس سے پہلے اعلان کردہ ساڑھے سات لاکھ خوراکوں سے کہیں زیادہ ہے۔
تائیوان کی صدر سائی انگ وین نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اضافی ویکسین کا مہیا کرنا دوستی کی علامت ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ دنیا بھر میں کرونا کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے کروڑوں کی تعداد میں ویکسین کی خوراکیں مہیا کرے گا۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار تک کرونا وبا نے دنیا بھر میں 17 کروڑ اسی لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے اور اب تک تقریباً 40 لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیے
بھارت میں کرونا کی صورتِ حال بہتر، بلیک فنگس کا خطرہ برقرار
بھارت کے کئی بڑے شہروں میں کرونا وائرس کے کیسز نیچے آنے سے معمول کی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔ لیکن بلیک فنگس نامی بیماری نے طبی نظام کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ مزید دیکھیے بھون گوسوامی کی رپورٹ میں۔
امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کھولنے کے امکانات میں اضافہ
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سرحد کھولنے کا باضابطہ اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔ تقریباً 9 ہزار کلومیٹر طویل سرحد، جس پر آرپار جانے کے لیے 117 سرکاری گزرگاہیں ہیں، گزشتہ سال مارچ میں کرونا وائرس کی عالمی وبا پھیلنے کے بعد غیر ضروری سفر کے لیے بند کر دی گئی تھی۔
دنیا کی اس سب سے طویل سرحد کی بندش کو ہرمہینے بڑھایا جاتا رہا ہے، جس کی موجودہ مدت پیر کے روز ختم ہو رہی ہے۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق وبا شروع ہونے سے پہلے ہر روز چار لاکھ کے لگ بھگ افراد اسے عبور کرتے تھے اور اس سرحد کے ذریعے روزانہ دو ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی تھی۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اشارہ دیا ہے کہ سرحد کھولنے کا عمل بتدریج ہو گا اور اس کا انحصار کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں پر ہو گا۔
وینکوور میں واقع سائمن فریسر یونیورسٹی میں گلوبل ہیلتھ شعبے کی پروفیسر کیلی لی کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ غیرضروری مقاصد کے لیے سرحد عبور کرنے والوں کو چار کیٹیگریز میں ڈالا جائے گا۔