پاکستان: مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ نو سات ریکارڈ
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 45 ہزار 245 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک ہزار 347 افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ نو سات ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا سے مزید 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں آئندہ دو روز ’نازک‘ قرار
آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں پیر کو کرونا کیسز میں تیزی سے اضافے کے سبب سڈنی میں موجودہ لاک ڈاؤن کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کرنے کے لیے آئندہ دو روز کو ’نازک‘ قرار دیا گیا ہے۔
سڈنی میں کرونا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے دو ہفتے کے لاک ڈاؤن کی مدت نو جولائی کو مکمل ہو رہی ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز میں پیر کو مقامی سطح پر کرونا کے 35 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو رواں برس اب تک کے سب سے زیادہ یومیہ کیسز ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز کی پرمیئر گلاڈس بیریجی کلیئن نے سڈنی میں صحافیوں کو بتایا کہ آئندہ دو روز نازک ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں اور اس بات پر بھی نظر رکھ رہے ہیں کہ اس کا آئندہ آںے والے دنوں میں کیا اثر پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کیسز کی تعداد محدود کرنے میں بے حد مؤثر ثابت ہوا حالاں کہ بہت سے افراد نے ان احکامات کی خلاف ورزی بھی کیا ہے جس کہ وجہ سے وائرس کو پھیلنے میں مدد ملی ہے۔
امریکہ میں نوکریاں زیادہ اور امیدوار کم، وجہ کیا ہے؟
کرونا وبا کی بندشوں کے بعد معاشی سرگرمیوں کی بحالی سے امریکہ میں روزگار کے مواقعوں کی بہتات ہے لیکن شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ بے روزگار افراد ملازمت کے حصول کے لیے پہلے جیسی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔
کئی ایسے افراد جو برسرِ روزگار نہیں وہ بھی پہلے سے زیادہ تنخواہوں کے خواہش مند ہیں یا کرونا وبا سے متاثر ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر عوامی خدمات کی کمپنیوں میں کام کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
یہ دونوں رجحانات کس طرح ایک دوسرے کو متوازن کرتے ہیں، آئندہ مہینوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں سے اس کی رفتار کا تعین ہوگا۔
رواں برس جون میں امریکہ میں بے روزگاری کی شرح مئی کے مقابلے میں کم ہونے کی توقع کی جارہی تھی۔ مئی میں یہ شرح پانچ اعشاریہ آٹھ فی صد تھی جب کہ جون میں یہ پانچ اعشاریہ سات فی صدر رہی۔
لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق رواں برس اپریل میں امریکہ میں ملازمت کے لیے خالی آسامیوں کی تعداد 93 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو کہ گزشتہ بیس برسوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
ایمپلائمنٹ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ملازمتوں کے اعلانات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
کرونا کے دور میں امریکہ میں یومِ آزادی، ویکسی نیشن کے باوجود چیلنجز برقرار
امریکہ کو ابھی بھی عالمی وبا کرونا کے خلاف جنگ میں کئی چیلنجز درپیش ہیں لیکن گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال امریکی عوام کہیں زیادہ اُمید افزا ماحول میں جشنِ آزادی منا رہے ہیں۔
ایک سال قبل اسپتالوں میں مریضوں کا رش، مختلف ریاستوں میں پابندیاں، ہزاروں اموات اور ویکسین کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال میں گھرے امریکیوں کے لیے رواں سال یومِ آزادی قدرے بہتر وقت کی اُمید لے کر آیا ہے۔
امریکہ میں کروڑوں افراد کو ویکسین لگا دی گئی ہے جب کہ وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کے باعث لوگ بتدریج معمول کی زندگی کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔
ماہرین کی نظر میں پر امید ماحول کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں جن میں امریکی عوام کو ویکسین کی دستیابی ایک اہم ترین وجہ ہے جب کہ طبی عملے کو اس وبا سے نمٹنے کے لیے اب تجربہ بھی ہو چکا ہے۔
اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے وینڈربلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں متعدی امراض کے پروفیسر ڈاکٹر ولیم شیفر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن اب وائرس کی 'ڈیلٹا' قسم ویکسین نہ لگوانے والوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔