ویکسین لگوائیں یا نوکری چھوڑ دیں: نرسنگ ہومز کا اسٹاف کو پیغام
امریکہ میں کرونا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر نرسنگ ہومز نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ انہیں اپنی نوکریاں برقرار رکھنے کے لیے اس ہفتے ویکسین لگوانا ہو گی۔
’جینیسز ہیلتھ کیئر‘ کمپنی نے اِس وقت نوکری کو ویکسین لگوانے سے مشروط کیا ہے جب ان کا 40 فی صد کے قریب اسٹاف اب بھی ویکسین لگوانے کے خلاف ہے۔
امریکی کمپنی ’جینیسز ہیلتھ کیئر‘ کے ملازمین کی تعداد 70 ہزار کے قریب ہے جو تقریباً 400 نرسنگ ہومز اور سینئر کمیونیٹیز کے اندر کام کر رہے ہیں۔
بعض ماہرین نرسنگ ہومز میں اسٹاف کے لیے ویکسین شاٹس کو لازمی قرار دے رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ ویکسین نہ لگوانے والا عملہ یہاں موجود دیگر افراد کے لیے خطرے کا باعث بن رہا ہے۔
امریکہ میں 25 جولائی کو نرسنگ ہومز میں رہنے والے ایک ہزار 250 سے زیادہ افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی تھی جو اس سے پچھلے ہفتے کی نسبت دو گنا زیادہ تعداد ہے۔
کرونا ویکسین وائرس سے زیادہ خطرناک ہے: سروے میں بالغ امریکیوں کی رائے
ایک نئی جائزہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر بالغ امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ کرونا ویکسین وائرس سے زیادہ خطرناک ہے۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق کائیزر فیملی فاؤنڈیشن نے بدھ کو ایک عوامی سروے پر مشتمل رپورٹ جاری کی ہے جس میں عالمی وبا کرونا سے متعلق ویکسین لگوانے اور نہ لگوانے والوں کے خیالات میں اختلاف پایا گیا ہے۔
سروے میں شہریوں سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ کس چیز کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
ویکسین نہ لگوانے والے 53 فی صد کے نصف کا یہ کہنا تھا کہ ویکسین لگوانا ان کی صحت کے لیے وائرس سے متاثر ہونے سے زیادہ خطرناک ہے۔
اس کے برعکس 88 فی صد ویکسی نیٹڈ شہریوں میں سے بڑی اکثریت کا کہنا تھا کہ ویکسین کی نسبت کرونا ان کی صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
واشنگٹن پوسٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق کائیزر فاؤنڈیشن کے سروے میں جن لوگوں نے ویکسین نہیں لگوا رکھی وہ ڈیلٹا ویریئنٹ سے کم خوف زدہ تھے اور ویکسین کی افادیت پر بھی ان کا کم ہی بھروسہ تھا۔
سروے میں شریک 57 فی صد ویکسین نہ لگوانے والے بالغ افراد میں سے اکثریت کا یہ بھی کہنا تھا کہ خبر رساں ادارے عالمی وبا سے متعلق صورتِ حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔
تاہم جن افراد نے ویکسین لگوائی ہوئی ہے ان میں سے 17 فی صد اس نکتہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں۔
سابق امریکی صدر براک اوباما نے ساٹھویں سالگرہ کی تقریب کو محدود کر دیا
امریکہ میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر سابق صدر براک اوباما نے میسی چیوسٹس میں موجود رہائش گاہ پر اپنی ساٹھویں سالگرہ کی تقریب کو محدود کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر بدھ کو 60 برس کے ہو گئے۔
اس موقع پر براک اوباما اور سابق خاتون اوّل مشعل اوبامہ نے مارتھاز وائن یارڈ میں تعطیلات کے لیے بنائے گئے گھر پر 475 افراد کو مدعو کر رکھا تھا لیکن اب وہ مہمانوں کی فہرست کو خاندان کے افراد اور قریبی دوستوں تک محدود کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مہمانوں کی ابتدائی فہرست میں متوقع طور پر براک اوباما کے سابق معاونین، اہم ڈیموکریٹک رہنما، جارج کالونی اور اوپرا ونفری جیسے شوبز ستارے بھی شامل تھے۔
تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ مہمانوں کی اس فہرست میں کون کون سی شخصیات شامل ہیں۔
ری پبلکن رہنماؤں کی جانب سے شکایات سامنے آ رہی تھیں کہ براک اوباما ملک کے اندر بڑھتے ہوئے کرونا کیسز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
فلوریڈا: کیسز میں اضافے کے سبب اسپتالوں میں بحرانی صورتِ حال
امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں کرونا کیسز میں اضافے کے سبب اسپتالوں کو بحرانی صورتِ حال کا سامنا ہے۔
ریاست فلوریڈا کے اسپتالوں میں جو مریض لائے جا رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر نوجوان اور ایسے مریض ہیں جنہوں نے ویکسین نہیں لگوا رکھی جب کہ زیادہ تر مریضوں کو کرونا کی قسم ڈیلٹا کا سامنا ہے جو امریکہ کے جنوبی ریاستوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
امریکہ میں سینٹر فار ڈیزیز اینڈ کنٹرول (سی ڈی سی) کی ڈائریکٹر روشیل ولنسکی نے وائرس کی اس قسم کو سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی قسم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ ان لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے جنہوں نے ویکسین لگوا رکھی ہے۔
یونیورسٹی آف الاباما کے اسسٹنٹ پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر ریکارڈو فرینکو کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف الاباما اسپتال میں کرونا کے جتنے مریض لائے جا رہے ہیں ان میں سے 97 فی صد ایسے افراد ہیں جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔
ان کے بقول ڈیلٹا ویریئنٹ اصل کرونا وائرس کی نسبت دو گنا تیزی سے پھیلنے والی قسم ہے۔