صدر بائیڈن کی ویکسی نیشن کی ترغیب کے لیے ’ڈیوڈ ود سائن‘ کے ساتھ تصویر
وائٹ ہاؤس نے امریکہ میں کرونا سے بچاؤ کے لیے ویکسی نیشن کی ترغیب کے لیے ایک اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ’ڈیوڈ ود سائن‘ کی معاونت حاصل کی ہے۔
سوشل میڈیا اسٹار سیٹھ فلپس نے اپنے اکاؤنٹ سے تصویر جاری کی ہے جس میں وہ صدر بائیڈن کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہوں نے کارڈ اٹھا رکھے ہیں جن پر ویکسی نیشن کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگانے کی ترغیب کے لیے سوشل میڈیا پر معروف شخصیات یا انفلوئنسرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے میں بڑا اضافہ
آسٹریلیا کے شہر سڈنی سمیت ریاست نیوساؤتھ ویلز میں کرونا وائرس کی روک تھام لیے لگائے گائے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے میں بھاری اضافہ کردیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز میں میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں گھروں تک محدور رہنے کے احکامات کی خلاف ورزی پر پانچ ہزار آسٹریلوی ڈالر جرمانہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل یہ جرمانہ ایک ہزار آسٹریلوی ڈالر تھا۔
نیو ساؤتھ ویلز میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مقامی سطح پر 466 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جب کہ چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ وبا کے حالیہ لہر میں نیو ساؤتھ ویلز میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 42 ہوگئی ہے۔
امریکہ میں کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو کرونا ویکسین کی اضافی خوراک دینے کی منظوری
امریکہ نے ایسے فراد کے لیے کرونا وائرس کی اضافی خوراک کی منظوری دے دی ہے جن میں بیماریوں سے محفوظ رکھنے والا مدافعتی نظام کمزور ہے۔
امریکہ میں ڈیلٹا ویریئنٹ کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ہنگامی حالات کے لیے فائزر بائیوٹیک اور موڈرینا کی تیسری خوراک کی منظوری دی ہے۔
ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیسری ڈوز اعضا کی پیوندکار کروانے والے یا ایسے افراد کے لیے ہے جن کے جسم کا مدافعتی نظام بہت کمزور ہے۔
حکام کے مطابق امریکہ میں جن افراد نے جانس اینڈ جانسن کی تیار کردہ ویکسن لگائی ہے تیسری خوراک کی مںظوری ان کے لیے نہیں دی ہے۔
کرونا وائرس کی ابتدا جاننے کے لیے ڈبلیو ایچ او کی تحقیقات کا مطالبہ مسترد
چین نے جمعے کوعالمی ادارۂ صحت کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس کی ابتدا جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی جائے۔
ڈبلیو ایچ او نے جمعرات کو اس بات پر زور دیا تھا کہ چین کرونا وائرس کے ابتدائی کیسز کے ڈیٹا کا تبادلہ کرے تاکہ وبا کے ماخذ کی تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے۔
چین کے نائب وزیرِ خارجہ ماہ زاؤژو نے جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کافی ہیں۔ مزید تحقیقات کا مطالبہ سائنسی وجوہات کے بجائے سیاسی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سائنسی کھوج کی حمایت کریں گے تاہم سیاسی کھوج کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔
ڈبلیو ایچ او کی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے جنوری 2021 میں ووہا کا دورہ کیا تھا جہاں سب سے پہلے کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ ڈبلیو ایچ او نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا تھا کہ کرونا وائرس کی ابتدا کیسے ہوئی تھی۔