ایران سے مزید زائرین کی تفتان آمد
بلوچستان کے علاقے تفتان میں ایران سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کی رات مزید 113 زائرین تفتان بارڈر پہنچے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے تفتان قرنطینہ مرکز میں 14 دن گزارنے والے 204 زائرین کو ملک کے مختلف علاقوں میں روانہ کر دیا ہے۔
چین سے طبی ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی
کرونا وائرس سے نمٹنے میں مہارت رکھنے والے آٹھ طبی ماہرین کی ٹیم اور امدادی سامان لے کر چین سے خصوصی طیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے اسلام اباد ایئر پورٹ پر ٹیم کا استقبال کیا۔
پاکستان میں چین کے سفیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ چین سے آنے والے امدادی سامان میں کرونا کی تشخیص کے لیے ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد کٹس بھی شامل ہیں۔ خصوصی پرواز کے ذریعے وینٹی لیٹرز اور میڈیکل دستانے بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل علی بابا اور جیک ما فاؤنڈیشن نے 50 ہزار ٹیسٹنگ کٹس اور پانچ لاکھ حفاظتی ماسک پاکستان بھجوائے تھے۔ چینی طبی ماہرین کی یہ ٹیم دو ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گی۔
- By روشن مغل
پاکستانی کشمیر میں دوسرے ملکوں سے لوگوں کی آمد محدود کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ مارچ میں 17 ہزار سے زائد لوگ کشمیر میں داخل ہوئے۔ لہذٰا اب یورپ اور شمالی امریکہ سے آنے والے کسی فرد کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
مظفر آباد میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وسائل بہت محدود ہیں۔ لہذٰا احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس وبا کا راستہ روکیں گے۔
انہون نے بتایا کہ بیرونی ممالک سے آنے والوں کی ٹریکنگ کے لیے یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ اُن کے پاکستانی کشمیر آنے والوں کا سارا ڈیٹا جمع کر لیا گیا ہے۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔
راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ مظفرآباد میں ٹیسٹنگ لیب شروع ہوگئی ہے ہفتے تک میرپور اور راولاکوٹ میں بھی لیبز قائم ہو جائیں گی۔
بھارتی کشمیر: لاک ڈاؤن میں صارفین تک ضروری اشیا پہنچانے کا منفرد طریقہ
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی فاصلوں کی ہدایات اور لاک ڈاؤن نے لوگوں کے لیے سامان کی خریداری مشکل بنا دی ہے۔ لیکن بھارتی کشمیر میں کچھ ڈپارٹمنٹل اسٹورز نے شہریوں تک اشیائے خور و نوش اور دیگر چیزیں پہنچانے کا منفرد طریقہ اپنایا ہے۔ دیکھتے ہیں زبیر ڈار کی اس رپورٹ میں۔