پاکستانی کشمیر کی جیلوں سے قیدیوں کی رہائی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہفتے کو جیلوں میں قید 800 میں سے 600 قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم پاکستانی کشمیر کی ہائی کورٹ نے دیا تھا۔
عدالت نے قتل اور غداری کے علاوہ 10 سال تک کی سزا پانے والے قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق لگ بھگ 650 قیدیوں کو رہائی مل سکے گی۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ان قیدیوں کو دو ماہ کے لیے پیرول پر رہا کیا جائے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی جموں و کشمیر میں کرونا کی وبا کے تیزی سے پھیلنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سردار مسعود نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو فوری طور پر رہا کرے۔
پاکستان نے سینکڑوں ہوٹل عارضی قرنطینہ مراکز میں تبدیل کر دیے
صحت عامہ کی دیکھ بھال کے ابتر نظام میں فوری بہتری لانے کے اقدام کے طور پر پاکستان نے سینکڑوں ہوٹلوں کو قرنطینہ کے عارضی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے، تاکہ کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔
ناقدین نے بتایا ہے کہ یہ فوری اقدام غیر معمولی نوعیت کا ہے، جب کہ ملک کے وسائل محدود ہونے کے باعث اضافی اخراجات برداشت کرنے کی گنجائش کم ہے۔
پاکستان کے قریبی اتحادی، چین نے درکار اہم طبی رسد اور عملہ فراہم کیا ہے، تاکہ وبا کے اثرات میں کمی لانے میں مدد دی جا سکے۔
پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد کم از کم 1400 ہے، جب کہ 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں ایک ماہ قبل کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
بھارت: ریلوے کی بوگیوں میں قرنطینہ وارڈ بنائے جا رہے ہیں
رائٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بھارتی حکومت نے ریلوے کی ان بوگیوں کو، جو اس وقت سروس میں نہیں ہیں، آئسولیشن وارڈز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ریلوے کے ایک ترجمان نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سردست ایک مسافر کوچ کو قرنطینہ وارڈ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اگر اس کی منظوری مل گئی تو ریلوے کا ہر زون ہر ہفتے 10 کوچز کو آئسولیشن وارڈ میں تبدیل کرے گا۔ بھارت میں ریلوے کی 16 زون ہیں۔
ریلوے کے وزیر گوپال نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ان کا محکمہ مریضوں کو صحت مند اور جراثیموں سے پاک ماحول فراہم کرے گا تاکہ وہ جلد صحت یاب ہو سکیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ہر کوچ میں کتنے مریضوں کو رکھنے کی گنجائش ہو گی۔
بحری اسپتال نیویارک کے لیے روانہ، نیویارک اور نیوجرسی میں سفری پابندیوں پر غور
کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے نتیجے میں نیویارک کے صحت کے شعبے کی مدد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو نور فوک سے ایک خصوصی سمندری جہان 'نیوی ہاسپیٹل' کو نیویارک روانہ کر دیا ہے۔
70000 ٹن وزنی، 'یو ایس این ایس کمفرٹ' اسپتال کی تمام سہولیات سے آراستہ ہے، جس میں ایک ہزار اضافی بیڈ مہیا کیے گئے ہیں۔
نیویارک میں کرونا کے تقریباً 26700 تصدیق شدہ مریض ہیں۔ یہ شہر امریکہ میں اس وبا کا گڑھ بن چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نیویارک اور نیو جرسی کے ان مقامات پر جہاں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے دو ہفتوں کی سفری پابندیاں لگانے پر غور کر رہی ہے۔