- By شمیم شاہد
مردان کے پولیس افسر میں کروبا وائرس کی تصدیق
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی پولیس کے ایس پی آپریشنز وقار عظیم کھرل 18 مارچ سے یونین کونسل منگاہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ علاقے میں فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ اس دوران ان کے بقول وہ متعلقہ علاقے کے بہت سے لوگوں سے ملے ہیں۔
اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام میں وقار عظیم کھرل نے بتایا کہ چند روز قبل انہویں نے اپنا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا تھا جس کا نتیجہ ہفتے کے روز مثبت آیا۔
کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد نہ صرف انہوں نے اپنے آپ کو بلکہ ساتھ ڈیوٹی پر مامور دیگر افسران اور اہلکاروں کو بھی قرنطینہ کر دیا ہے۔
وقار عظیم کے بقول اس فیصلے کا مقصد اس بیماری کو روکنا ہے۔
اپنے مختصر پیغام میں وقار عظیم کھرل نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھروں میں رہنے سے ملک بھر کے لوگوں کی زندگیاں محفوظ ھو سکتی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں سے بھی پولیس افسران کو کرونا وائرس ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں تاہم ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پاکستان میں 4365 افراد کے ٹیسٹ، 20 فی صد میں وائرس کی تصدیق
وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان بھر میں 121 کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ دو مریضوں کی موت ہے۔ ملک میں 1526 کیسز کنفرم ہیں جب کہ 13 اموات ہو چکی ہیں۔
خیال رہے کہ سرکاری ویب سائٹ پر یہ اعداد و شمار اپ ڈیٹ نہیں کیے گئے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 13324 ہے جن میں سے لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد 1526 میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ان کے بقول پاکستان میں 36 فی صد کیسز پنجاب اور 31 فی صد سندھ سے سامنے آئے ہیں۔
معاون خصوصی برائے صحت کے مطابق پاکستان میں 8066 افراد کو قرنطینہ میں یا سماجی میل جول سے دور رکھا گیا ہے۔ ان میں سے 50 فی صد سے زائد یعنی 4365 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ 4365 افراد جن کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں سے 20 فی صد یعنی 869 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں موجود 58 فی صد کیسز ایران سے آنے والے زائرین کے ہیں جب کہ 20 فی صد افراد دیگر ممالک سے آنے والے ہیں۔ باقی کیسز مقامی طور پر لوگوں میں ایک دوسرے سے منتقل ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ سماجی میل جول کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے اس کے مثبت نتائج آئے۔ پاکستان کے حوالے سے جو مختلف اندازے لگائے گئے تھے اس سے کم کیسز سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سماجی میل جول کے حوالے سے اقدامات پر عمل کرتے رہے تو مرض کو قابو کیا جا سکے گا جب کہ احتیاط نہ کرنے سے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تھائی لینڈ سے آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ سے گھر جانے کی اجازت
تھائی لینڈ سے آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ سے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ بینکاک سے اسلام آباد آنے والے 170 مسافروں کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔
کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تمام مسافروں کو گھر جانے کی اجازت دی۔ مسافر گزشتہ شب اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچے تھے۔
تمام مسافروں کے نمونے حاصل کرکے انہیں ہوٹلز منتقل کیا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تھائی لینڈ سے آنے والے تمام مسافروں میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔
کرونا وائرس سے عالمی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد 32 ہزار سے تجاوز
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 6لاکھ 83ہزار سے تجاوز کر گئی جب کہ ایک لاکھ 46ہزار سے زائد افراد وبا سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
چین کی حکومت نے دسمبر 2019 کے آخری ہفتے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو مطلع کیا تھا کہ اس کے صوبے ہوبئی کے شہر ووہان میں ایک نامعلوم وائرس سے لوگ تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بعد ازاں اس وبا کی شناخت کرونا وائرس کے نام سے ہوئی۔
جنوری میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ چین تھا جہاں اس کے کیسز ہزاروں میں تھے بعد ازاں یہ دنیا کے دیگر ممالک میں پھیل گیا جس سے اب 190 سے زائد ممالک میں 683694 افراد متاثر ہیں۔
تین ماہ کے دوران وزئار سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی 32155 ہو چکی ہے۔
کرونا وائرس سے اب تک سب سے زیادہ متاثر امریکہ ہے جہاں مجموعی کیسز کی تعداد 123828 ہے جب کہ وہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2231 ہے۔
اٹلی میں 10ہزار افراد کی موت
ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ یورپ ہے جہاں اٹلی میں 92 ہزار سے زائد مریض ہیں جب کہ 10023 افراد کی موت وائرس کے سبب ہو چکی ہے۔
چین میں مریضوں کی تعداد 81 ہزار ہے تاہم چین میں 3300 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یورپی ملک اسپین میں 79ہزار کے قریب مریض جب کہ 6528 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جرمنی میں 58ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ اس سے 455 افراد کی موت ہوئی ہے۔
مشرق وسطی میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ایران ہے جہاں مریضوں کی تعداد 38ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ اموات بھی 2640 ہو چکی ہیں۔
اسی طرح فرانس میں 37 ہزار مریض جبکہ 2314 افراد ہلاک، برطانیہ میں 19ہزار افراد متاثر جب کہ 1235 ہلاک، نیدرلینڈز میں 11ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق جب کہ 771 ہلاک ہوئے ہیں۔
جنوبی ایشیا ممالک میں بھارت میں 987 افراد میں وائرس کی تصدیق جب کہ 25 ہلاک، بنگلہ دیش میں 48 افراد میں وائرس کی تصدیق جب کہ 5 ہلاک، سری لنکا میں 115 افراد میں تصدیق جب کہ ایک ہلاکت، افغانستان میں 120 افراد میں وائرس کی تصدیق جب کہ 4 افراد کی موت، بھوٹان میں چار افراد میں وائرس کی تصدیق، مالدیپ میں 17 کیسز، نیپال میں 5 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
پاکستان میں 1526 افراد میں وائرس کی تصدیق جب کہ 13 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔