- By علی حسین
لاک ڈاؤن کے سبب روزگار ختم
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جاری لاک ڈاؤن کے سبب کئی لوگوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔ ان میں اوبر اور کریم ٹیکسی سروسز کے ڈرائیورز بھی شامل ہیں۔ جن کا کام لاک ڈاؤن کی وجہ سے تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ وہ کن مشکلات کا شکار ہیں؟ جانیے ایک اوبر ڈرائیور کی زبانی اس رپورٹ میں
- By محمد ثاقب
سندھ میں کرونا وائرس کے کیسز 500 تک پہنچ گئے
صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 500 سے تجاوز کرگئی ہے۔ اتوار کے روز صوبائی دارلحکومت کراچی میں کرونا کے 33 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس طرح یہاں مریضوں کی کل تعداد 222 تک جاپہنچی ہے، جبکہ تفتان سے سکھر میں لائے گئے زائرین میں سے 265 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض کیسز لاڑکانہ، سکھر اور حیدرآباد میں بھی ہیں۔
صوبائی محکمہ صحت کی ترجمان کے مطابق 171 ایسے کیسز ہیں جن میں مقامی طورپر وائرس ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہوا ہے۔ اب تک صوبے بھر میں 5 ہزار 945 ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن میں سے 502 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ادھر حکومت سندھ نے ایک اور نوٹی فیکیشن کے تحت صوبے بھر میں موجود پیٹرول اور سی این جی پمپمس کو شام پانچ بجے بند کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ جب کہ اس سے قبل صوبے بھر میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والی تمام دکانوں کو شام پانچ بجے بند کرنے کے احکامات دئیے جاچکے ہیں تاکہ صوبے میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے
امریکہ میں ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ، صحت کے اعلی سرکاری عہدے دار
متعدی امراض کے کنٹرول اور انسداد کے نگران ڈاکٹر فاؤچی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ کرونا سے ایک لاکھ سے زیادہ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں، جو موجودہ تعداد کا 50 گنا ہے۔
ڈاکٹر فاوچی نے نیوز چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عالمی وبائی مرض کرونا وائرس ایک لاکھ سے زیادہ امریکیوں کی جان لے سکتا ہے۔ یہ اندازہ مختلف ماڈلز کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک سرکاری طور پر ایک لاکھ 24 ہزار متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار ایک سو ہے۔ جس میں تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ خاصا خوفناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے ایک ہزار افراد ایک ماہ کے دوران ہلاک ہوئے، جب کہ بقیہ ایک ہزار دو دن میں ہلاک ہوئے ہیں۔
شام میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت
مشرقِ وسطیٰ کے ملک شام میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
شام کی وزارتِ صحت کے وزیر نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لائی گئی خاتون دم توڑ گئی ہے جو کرونا وائرس میں مبتلا تھی۔
سرکاری طور پر خاتون کی موت کو شام میں کرونا وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے برعکس متاثرہ مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک بھر میں کاروباری مراکز، اسکول، یونیورسٹیز، مساجد، پبلک ٹرانسپورٹ اور بیشتر سرکاری دفاتر بند ہیں۔