ریل کی بوگیوں میں ہنگامی قرنطینہ سینٹر قائم
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے کینٹ ریلوے اسٹیشن پر ریل گاڑی کی بوگیوں میں عارضی وارڈ یا ہنگامی قرنطینہ سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
پاکستان ریلویز نے ریل گاڑی کی تین اے سی اور دو بزنس کلاس بوگیوں میں قرنطینہ سینٹرز بنائے ہیں۔ ان بوگیوں میں ہنگامی بنیادوں پر 36 افراد کو رکھا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم کرونا ریلیف فنڈ اور ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان
پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان نے کورونا کے خلاف ملک میں امداد فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم کرونا ریلیف فنڈ اور کرونا وائرس ریلیف ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کی تیزی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پانچ دن سے ایک ہفتے کے دوران وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کے بارے میں اندازہ لگا لیں گے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس ریلیف ٹائیگر فورس کا اعلان کر رہا ہوں۔ یہ فورس، فوج اور انتطامیہ کے ساتھ مل کر وبا کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرے گی۔ جن علاقوں میں لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا تو یہ فورس خوراک اور آگاہی کی فراہمی میں مدد فراہم کرے گی۔
انہوں ںے لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا اگر ہم لاک ڈاؤن میں بے روزگار ہو کر گھروں میں بیٹھ جانے والوں کا خیال نہیں رکھ سکتے تو کوئی لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لاک ڈاوَن کے فیصلے پر قوم سے معافی مانگی ہے۔ بھارت میں لوگ بھوک کی وجہ سے سڑکوں پر آ گئے ہیں۔
وزیر اعظم نے کرونا ریلیف اکاؤنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس فنڈ میں جو بھی رقم جمع کروائے گا، اس سے کوئی سوال نہیں ہو گا اور اس میں جمع کروائی گئی رقم ظاہر کر کے ٹیکس میں رعایت حاصل کی جا سکے گی۔ اس فنڈز میں آںے والی رقوم ضرورت پڑنے پر احساس پروگرام میں رجسٹرڈ ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کی امداد کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ اس فنڈ کا آڈٹ ہو گا اور تفصیلات عام کی جائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے 8 ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ ہمارے پاس وسائل تو نہیں۔ ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت ایمان اور نوجوان آبادی ہے۔ کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ہم نے ان دو طاقتوں کا استعمال کرنا ہے۔
لاک ڈاؤن میں شراب نہ ملنے پر دو افراد کی خودکشی
بھارت کی ریاست کیرالہ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب نہ ملنے پر دو افراد نے خود کشی کرلی۔
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ نے محکمہ ایکسائز کو حکم دیا ہے کہ ڈاکٹری نسخے کے حامل افراد کو شراب مہیا کی جائے۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق وزیراعلیٰ پینارائی وجیان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں حکومت شراب کی آن لائن فروخت کے بارے میں بھی غور کر رہی ہے۔
اخبار کے مطابق 'کودن گلور' کے علاقے میں ہفتے کے روز 32 سالہ سُنیش نے شراب کی عدم دستیابی پر مبینہ طور پر دریا میں کود کر خود کشی کی۔
رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران شراب نہ ملنے کی وجہ سے ولی کونام سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ نوفل نے بھی مبینہ طور پر آفٹر شیو لوشن پی کر اپنی جان کا خاتمہ کیا۔
کرونا وائرس کے باعث ایشیا کپ کا انعقاد خطرے میں
بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایشیا کرکٹ کپ 2020 کے انعقاد کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں اور غالب امکان ہے کہ شاید یہ ایونٹ بھی آئندہ برس تک کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلنے کے سبب کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئی ہیں اور ایک کے بعد ایک اسپورٹس ایونٹ منسوخ ہوتا جارہا ہے۔
بھارت کے خبر رساں ادارے آئی اے این ایس سے گفتگو کے دوران بی سی سی آئی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ کووڈ 19' سے معیشت پر تو برے اثرات مرتب ہوئے ہیں، کھیلوں کے منتظمین کو بھی اس سے شدید نقصان پہنچا ہے۔
آئی اے این ایس نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا تو ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایشین کرکٹ کونسل کا اگلا اجلاس کب ہوگا اور ایشیاء کپ سے متعلق کیا فیصلے ہوں گے، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔