پاکستان میں مزید 148 نئے کیسز رپورٹ
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک
کرونا وائرس سے پہلا امریکی فوجی ہلاک، 568 اہلکاروں میں وبا کی تصدیق
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ کرونا وائرس سے امریکہ میں پہلے فوجی اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق فوج میں کئی اہلکار وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
ہلاک ہونے والے فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ نیو جرسی آرمی نیشنل گارڈزمین میں وائرس کی تصدیق کے بعد انہیں 21 مارچ کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ دس دن زیرعلاج رہنے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی۔
خیال رہے امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی ایک لاکھ 64 ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے۔
ایک روز قبل پینٹاگون سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق فوج کے 568 اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
محکمہ دفاع کے ساتھ کام کرنے والے 450 سویلینز، کنٹریکٹرز اور دیگر متعلقین میں بھی وبا کی تصدیق ہو چکی ہے۔
- By سہیل انجم
نئی دہلی: تبلیغی جماعت کے اجتماع سے وائرس پھیلا ؟
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شریک ہونے والے 24 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ان افراد نے دہلی میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں منعقد ہونے والے ایک اجتماع میں شرکت کی تھی بعد ازاں ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا تو اس کے نتائج پازیٹیو آئے۔
مختلف ریاستوں میں ہونے والی سات ہلاکتوں کو بھی اب اس اجتماع سے جوڑا جا رہا ہے۔
بھارت اور دیگر ممالک سے تقریباً دو ہزار افراد 13 سے 15 مارچ تک اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ ان میں سے 300 میں پیر کو کرونا وبا کی علامتیں پائی گئی تھیں جس کے بعد انہیں مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔
منگل کی صبح 700 افراد کو بسوں کے ذریعے شہر کے الگ الگ مقامات پر لے جا کر آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔
تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ پر تبلیغی جماعت کے مرکز کو وبا پھیلانے کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جس پر تبلیغی جماعت نے اعتراض کیا ہے۔
تبلیغی جماعت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کے ذریعے 22 مارچ کو 'جنتا کرفیو' کے اعلان کے بعد پروگرام منسوخ کر دیا گیا تھا۔
جماعت نے یہ بھی کہا ہے کہ پہلے دہلی حکومت نے اور پھر وزیر اعظم نے 21 روز کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ اس لیے لوگ وہاں سے نکل نہیں سکے۔
تبلیغی جماعت کے مطابق اس نے پولیس سے مدد کی اپیل کی تھی۔