رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:58 31.3.2020

'کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ماسک معاون نہیں ہیں'

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں چہرے کے ماسک (فیس ماسک) معاون نہیں ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے ہیلتھ ایمرجنسیز مائیک ریان کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ بہت بڑے پیمانے پر لوگ چہروں پر فیس ماسک پہن لیں تو اس کا فائدہ ہوگا۔

فیس ماسک پہننے کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ایسے شواہد ضرور سامنے آئے ہیں کہ جس سے فیس ماسک پہننے کے منفی اثرات ہوئے ہوں۔ کیوں کہ ماسک درست انداز میں نہ پہننے یا اس کو ٹھیک طریقے سے چہرے پر نہ لگانے سے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادرہ صحت کے مطابق صرف ان افراد کو ماسک پہننے کی ضرورت ہے جو پہلے سے بیمار ہوں یا جو لوگ تیمار داری اور علاج کی خدمات انجام دے رہے ہوں۔

مائیک ریان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر طبی اشیا کی کمی کا سامنا ہے۔ اس سے لوگوں کا علاج کرنے والے افراد روز بروز خطرے سے دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔

ان فرنٹ لائن ورکرز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس فیس ماسک نہ ہونا انتہائی خطرناک صورت حال ہے۔

واضح رہے کہ بعض طبی ماہرین فیس ماسک کے استعمال پر زور دے رہے ہیں جب کہ ان ماہرین کے مطابق زیادہ بہتر فیس ماسک ہوں ہیں جو گھر پر تیار کیے جائیں۔

امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن کا کہنا ہے کہ گھر میں تیار کیے گئے فیس ماسک ان چھوٹے ذرات کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے جو ہوا کہ ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔

سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن کے مطابق ایسے ماسک ممکن ہے کہ اس وقت بالکل کارآمد ثابت نہ ہوں جب کوئی شخص ماسکے پہہنے والے کے قریب کھانسے یا چھینک مارے۔

14:25 31.3.2020

ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کے لیے 20 لاکھ ڈالرز کی امداد

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مزید 20 لاکھ ڈالرز کی امدادی رقم دینے کی منظوری دی ہے۔

اے ڈی بی کے اعلامیے مطابق یہ مالی اعانت پاکستان کو کرونا وائرس کے پیش نظر ہنگامی طبی سامان خریدنے میں معاون ہوگی جو کہ ایشیا پیسیفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ کے تحت دی جا رہی ہے۔

یہ امدادی رقم پاکستان کو پہلے سے فراہم کردہ پانچ لاکھ ڈالرز کے علاوہ ہوگی جس کی منظوری 20 مارچ کو دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک 1800 سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جس میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے،

اے ڈی بی کے ڈائریکٹر ژاؤونگ یانگ نے کہا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان پر پڑنے والے اس وبائی بیماری کے غیر معمولی اثرات کو تسلیم کرتا ہے جب کہ کرونا وائرس پر قابو پانے کی جنگ میں پاکستان کی مدد کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

14:34 31.3.2020

بلوچستان میں کرونا وبا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 154 ہوگئی

بلوچستان میں کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 154 ہوگئی ہے۔ وائرس کا شکار ہونے والوں میں 138 ایران سے آنے والے زائرین اور 16 تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے منگل کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ بلوچستان میں اب بھی کرونا وائر س سے متاثرہ افراد کے کیسز سامنے آ رہے ہیں جو ایک تشویشناک امر ہے۔ ابھی تک 156 افراد کے خون کے نمونوں کے نتائج آنا باقی ہے۔

دوسر ی جانب ایران سے تفتان سرحد کے راستے زائرین اور تاجروں کی آمد جاری ہے۔ 16 زائرین منگل کو ایران سے بلوچستان میں داخل ہوئے۔ جن کو تفتان بازار کے قریب قائم کیے گئے قرنطینہ سینٹر میں 14 دن کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

تفتان میں لیویز کے ایک تحصیلدار ظہور بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاک ایران تجارتی گیٹ زیرو پوائنٹ تاحال بند ہے۔ تاہم ایران سے آنے والے لوگوں کے لیے دن کے اوقات میں سرحد تھوڑی دیر کے لیے کھول دی جاتی ہے۔

بلوچستان کی حکومت نے شہریوں کی مشکلات اور بعض علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت کی شکایات کے بعد کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں تاجروں کو ایک گھنٹہ صبح اور ایک گھٹنہ شام میں دُکانیں کھولنے کی اجازت دی ہے جس کے باعث منگل کو بازار میں لوگ ایک بار پھر کافی تعداد میں نظر آئے۔

بلوچستان میں کرونا وائرس سے اب تک ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ حکام کے بقول وائرس سے صوبے کے تین اضلاع زیادہ متاثر ہیں۔

14:51 31.3.2020

لاک ڈاؤن میں علاج کی مفت آن لائن سہولت

پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے بعد اس وبا کو لے کر شہریوں میں خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران ایک اہم مسئلہ بیماری کے لیے معالجین تک رسائی کا نہ ہونا بھی ہے۔اس سلسلے میں ٹیلی میڈیسن کا طریقہؑ کار خاصا کار آمد ثابت ہو رہا ہے۔

'صحت کہانی' کے نام سے کراچی سے ملک کے بہت سے شہروں میں کام کرنے والا ٹیلی میڈیسن ادارہ اس وقت کرونا وائرس کے پیش نظر اپنی موبائل ایپلی کیشن کو صارفین کے لیے مفت فراہم کر رہا ہے جس میں خواتین ڈاکٹرز کی مدد سے ان مریضوں کا علاج یا کاوؑنسلنگ کی جا رہی ہے جنھیں اس کی اشد ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سارہ سعید 'صحت کہانی' کی بانی ہیں۔ اُن کے مطابق یہ ادارہ دو طریقوں سے ملک میں کام کر رہا ہے۔ پہلے طریقہ کار کے تحت پسماندہ علاقوں میں ان کے کئی کلینکس ہیں جہاں ایک تربیت یافتہ نرس موجود ہوتی ہے جو وہاں آنے والے مریضوں کو آن لائن ڈاکٹر کی مدد سے علاج کی آسانی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

دوسرا طریقہؑ کار موبائل اپیلی کیشن ہے جس کی مدد سے مریض 24 گھنٹے کسی بھی ڈاکٹر سے آڈیو یا ویڈیو لنک کی مدد سے رابطے میں آسکتا ہے۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG