رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

20:04 31.3.2020

اسلام آباد میں کرونا وائرس کیسے پھیلا؟

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اب تک 58 کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 10 مریض اسپتال میں جب کہ باقی افراد کو گھروں پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد میں اس مرض کا پھیلاؤ کیسے ہوا؟ اس بارے میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ مرض بھارہ کہو کے علاقہ میں آیا جہاں ایک مسجد میں تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 13 لوگ آئے۔

ان کے بقول ان میں سے 6 افراد غیرملکی تھے۔ ان افراد کی وجہ سے 2 مزید افراد کو کرونا کا مرض لگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ شہزاد ٹاؤن میں لاہور سے آنے والا ایک شخص اپنی ساس کے جنازے میں شریک ہوا۔ اس شخص نے چین کا سفر کیا تھا۔ اس شخص سے اس کے اپنے گھر کے آٹھ لوگ متاثر ہوئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح گلگت بلتستان کے ایک ڈاکٹر جو پولی کلینک اسپتال میں تھے۔ نے اپنے کزن اور ایک ڈاکٹر کو اس مرض میں مبتلا کیا۔ اس صورت حال کی وجہ سے پمیں پولی کلینک اسپتال کو قرنطینہ سینٹر بنانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد میں 600 بیڈ ہیں جن کے ساتھ تمام سہولیات موجود ہیں جنہیں ہم قرنطینہ کے لیے استعمال کر رہے ہیں جب کہ زیادہ خراب صحت کے لیے آنے والے مریضوں کے لیے پہلے صرف 10 بیڈ تھے لیکن اب ان کی تعداد 30 تک بڑھا دی گئی ہے۔

20:10 31.3.2020

پاکستان میں تبلیغی جماعت کے کئی مراکز قرنطینہ میں تبدیل

پاکستان کے صوبہ سندھ میں تبلیغی جماعت کے 100 سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد مختلف شہروں میں قائم مراکز کو قرنطینہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

پنجاب کے شہر لاہور سے ملحقہ رائے ونڈ سٹی کو بھی قرنطینہ قرار دے کر سیل کر دیا گیا ہے۔

سندھ کے شہر حیدرآباد میں تبلیغی جماعت کے دوسرے بڑے مرکز مسجد نور سمیت کئی مراکز کو قرنطینہ میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان سینٹرز میں موجود بعض غیر ملکیوں میں بھی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

حیدرآباد میں مسجد نور میں موجود 200 افراد میں سے اب تک 100 کے لگ بھگ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

صوبائی اسمبلی کے رکن اور ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس برائے کرونا کے سربراہ شرجیل انعام میمن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابھی بہت سے افراد کے نمونوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان افراد کی تعداد اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید جانیے

04:06 1.4.2020

بھارتی ڈاکٹر رین کوٹ اور ہیلمٹ استعمال کرنے پر مجبور

بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں طبی اور حفاظتی آلات کی کمی کے باعث ڈاکٹرز رین کوٹس اور ہیلمٹس استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

عارضی طور پر رین کوٹ اور ہیلمٹ استعمال کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بھی خدشہ ہے کہ وہ خود بھی کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

بھارتی شہر کولکتہ کے متعدی امراض کے اسپتال میں جونیئر ڈاکٹرز کو مریضوں کے معائنے کے لیے پلاسٹک کی برساتی یعنی رین کوٹ دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر نے حکام کے خوف سے 'رائٹرز' کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اپنی جان کو اس طرح خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر اسیس منا نے اس پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔

بھارتی ریاست ہریانہ کے اسپتال 'ای ایس آئی' کے ڈاکٹر سندیپ گارگ نے کہا ہے کہ وہ مجبوراً موٹر سائیکل ہیلمٹ استعمال کر رہے ہیں۔ کیوں کہ اُنہیں این 95 ماسک نہیں دیے گئے۔

اطلاعات کے مطابق ہریانہ کے اسپتالوں میں بیشتر جونیئر ڈاکٹرز نے مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا ہے۔

04:15 1.4.2020

کرونا وائرس اور حزب اللہ کے سیاسی مقاصد

لبنان میں سرگرم سیاسی کارکنوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حزب اللہ کرونا وائرس کو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہے اور اس مقصد کے لئے 15 مارچ کو اعلان کی جانے والی ہنگامی حالت کے تحت شہریوں پر سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

حکومت کی طرف سے ہنگامی حالت کے اعلان کو سیکورٹی پلان سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ مختلف حلقے کہتے ہیں کہ حکومت اس کے تحت اپنے ان مخالفین کو پابند سلاسل کرنا چاہتی ہے جو اکتوبر میں مظاہروں میں شامل تھے۔

لبنان میں کرونا وائرس کے کم سے کم 333 کیس سامنے آ چکے ہیں اور ملک میں خاص کر دارالحکومت بیروت کے اندر اس تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر سرگرم کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ایمرجنسی کے قوانین کے تحت سخت اقدامات کی بجائے صحت عامہ کی جانب توجہ دی جائے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے لبنانی حکومت نے سرکاری اداروں، نجی کاروبار، بندرگاہوں اور سرحدوں کو بند کر دیا ہے۔ تاہم، مخالفین کا اعتراض ہے کہ فوج اور پولیس کو غیر معمولی اختیارات دیے دیئے گئے ہیں اور عام لوگوں کو بہتر متبادل کی بجائے مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG