پاکستان میں آن لائن کلاسز بند کرنے کا مطالبہ
پاکستان میں بعض طلبا تنظیمیں آن لائن کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کررہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس بحران کی وجہ سے طلبا کو سمسٹر بریک دے۔ ترقی پسند طلبا کی تنظیم پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو نے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل سے آن لائن کلاسز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے تنظیم کی مرکزی کمیٹی کے رکن سلمان سکندر نے کہا کہ ملک میں صرف 36 فیصد افراد کے پاس تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ ہے۔ ان میں بھی کئی علاقوں میں سگنل بہت کم آتے ہیں۔ جو لوگ دوردراز کے علاقوں میں آباد ہیں، ان کے لیے آن لائن کلاسز لینا ممکن نہیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالب علم رہنما محسن ابدالی کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی سہولتوں کے فقدان کے علاوہ اکثر اساتذہ اور طلبا آن لائن کلاسز کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہیں اس لیے تعلیم کے حصول میں دشواری ہورہی ہے۔ بہت سے اداروں میں طلبا نے لاکھوں روپے فیس دی ہے۔ ویڈیو لنک پر غیر تربیت یافتہ اساتذہ سے ناقص معیار کے لیکچر دلوانا طلبا کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ بہت سے طلبا کی طرف سے آن لائن کلاسز کے غیر معیاری ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے اور معیار کو بہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سیاسی جلسے منسوخ لیکن صدارتی انتخاب وقت پر
کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ میں سیاسی سرگرمیاں ماند ہیں۔ تاہم، دونوں جماعتوں کے ممکنہ امیدوار الکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور کسی نہ کسی طور اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے امیدوار جو بائیڈن الکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر تنقید کا موقع نکال ہی لیتے ہیں؛ اور یوں، ان کی انتخابی مہم جاری ہے۔ پیر کو صدر ٹرمپ نے فاکس اینڈ فرینڈز کے پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ "اگر بائیڈں صدر ہوتے تو ان کو کرونا وائرس کے بارے کچھ سمجھ میں بھی نہیں آتا۔‘‘جو بائیڈن نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے لیڈر باآواز بلند سوچنے کے بجائے سنجیدگی اور گہرائی سے کرونا وائرس کے خلاف حکمت عملی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس ٹرمپ کی غلطی نہیں مگر اس کے خلاف سست رو پالیسی اور رد عمل ٹرمپ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جو بائیڈن نے اپنے گھر میں عارضی اسٹوڈیو بنایا ہے جہاں سے وہ ٹاون ہال جلسے اور ٹی وی انٹرویو دیتے ہیں۔ وہ جولائی میں اپنی پارٹی کی حتمی نامزدگی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں؛ کیوں کہ ابھی تک ان کے واحد حریف برنی سینڈرز میدان میں ہیں
امریکہ میں ایک دن میں 800 ہلاکتیں، دو ہفتے بہت تکلیف دہ ہوں گے، ٹرمپ
امریکہ میں منگل کو کرونا وائرس سے اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس نے اندازہ لگایا ہے کہ عالمگیر وبا سے امریکہ میں کم از کم ایک لاکھ اور اگر احتیاط نہ کی تو 22 لاکھ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتے بہت تکلیف دہ، بہت بہت تکلیف دہ ہوں گے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ملک میں پہلی بار ایک دن میں ہلاکتوں کی تعداد 800 سے زیادہ ہوئی ہے۔ صرف نیویارک میں 332 افراد جان سے گئے۔ مشی گن میں 75، نیوجرسی میں 69 اور لوزیانا میں 54 افراد ہلاک ہوئے۔
ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 3800 سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ ایک لاکھ 87 ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ٹاسک فورس میں سینئر ڈاکٹروں کے ساتھ متعدد ماہرین شامل ہیں اور مستقبل کے امکانات پر غور کرتے ہوئے بدترین حالات کی تیاری کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں ٹاسک فورس روزانہ وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ دیتی ہے۔ منگل کو اس کے رکن ماہرین صحت نے وائرس سے تباہی کی خوفناک تصویر پیش کی اور کہا کہ اگر امریکیوں نے آئندہ کم از کم تیس دن سماجی دوری اختیار نہ کی تو بڑا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحت عامہ کا یہ بحران قوم کی ایسی آزمائش ہے جو ماضی میں کبھی پیش نہیں آئی۔ امریکی عوام روزانہ زندگی اور موت کا فیصلہ کررہے ہیں۔ آئندہ دو ہفتے بہت تکلیف دہ، بہت بہت تکلیف دہ ہوں گے۔
ڈاکٹر ڈیبورا برکس اور ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے مستقبل کے امکانات پیش کیے اور کہا کہ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں تو ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ تک اموات ہوسکتی ہیں۔ احتیاط نہ کی تو 15 سے 22 لاکھ افراد مرسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کسی کے پاس جادو کی گولی نہیں ہے۔ کوئی جادو کی ویکسین یا تھراپی نہیں ہے۔ یہ صرف احتیاط اور رویے ہوں گے جو لوگوں کو بچاسکتے ہیں۔ اگلے تیس دن ان رویوں کی بنیاد پر طے ہوگا کہ یہ وبا کیا رخ اختیار کرتی ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے لوگوں کو زور دیا کہ وہ اگلے چند دن میں اموات کی تعداد میں اضافہ دیکھیں تو حوصلہ نہ ہاریں۔ ممکن ہے کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ سے بہت کم اموات ہوں لیکن ہمیں بدترین صورتحال کے لیے تیار رہنا ہے۔
امریکی نیوی اہلکار کرونا کا شکار ہو رہے ہیں: بیڑے کے کپتان کا پینٹاگون کو خط
امریکہ کے بحری بیڑے 'روزویلٹ' کے کپتان نے محکمۂ دفاع پینٹاگون کو لکھے گئے ایک خط میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کرونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے اس لیے فوری طور پر مدد کی جائے۔
بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے۔ کرونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی اخبار سین فرانسسکو کرونیکل نے منگل کو بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا ہے۔
خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں۔
انہوں نے کہا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔