رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:53 1.4.2020

پاکستان میں سڑکوں پر حفاظتی ماسک فروخت

لاہور کی مختلف سڑکوں پر کئی افراد حفاظتی ماسک فروخت کر رہے ہیں۔ ماسک کی قیمت 30 روپے سے 150 کے درمیان ہے۔ خیال رہے کہ کرونا وائرس کے باعث پاکستان بھر میں ماسک کی قلت ہے۔ سڑکوں پر فروخت ہونے والے یہ ماسک مقامی طور پر تیار کردہ ہیں۔

15:14 1.4.2020

راولپنڈی میں لاک ڈاؤن پر عمل در آمد جاری

ملک کے دیگر شہروں کی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی لاک ڈاؤن پر عمل در آمد جاری ہے۔

لاک ڈاؤن میں دکانیں اور بازار بند ہیں البتہ کہیں کہیں کوئی شخص فیس ماسک فروخت کرتے نظر آتا ہے۔

پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر ناکے لگائے گئے ہیں تاکہ لاک ڈاؤن پر عمل در آمد کروایا جا سکے۔

15:26 1.4.2020

نیپال میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے پنجرے میں بند

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے کچھ افراد کو انتظامیہ نے جیل نما پنجرے میں بند کیا ہوا ہے۔ نیپال میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر گزشتہ آٹھ روز سے لاک ڈاؤن ہے جس کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو مختلف سزائیں دی جا رہی ہیں۔

15:29 1.4.2020

'پاکستان میں کرونا وائرس میں مزید اضافہ ہوگا'

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں وبا میں اضافہ کس شرح سے ہوگا یہ ابھی معلوم نہیں ہے۔

راولپنڈی میں کنٹونمنٹ جنرل اسپتال کا افتتاح کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے اعداد و شمار موصول ہو رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں ایک ہفتے میں صورت حال واضح ہو جائے گی۔

یورپی ممالک میں وبا سے اموات کا تذکرہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے پاکستان میں شرح اموات بہت کم ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے 2039 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ اس وبا سے اب تک 26 افراد کی موت ہوئی ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے والے 82 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 15 جنوری میں حکومت کو معلوم ہوا کہ چین میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے۔ اس وقت سے ہی اس کی روک تھام کی تیاری شروع کر دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈاکٹرز اور طبی عملہ فرنٹ لائن پر کام کر رہا ہے۔

ان فرنٹ لائن پر کام کرنے والوں کو یقین دہانی کرواتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی ترجیح ہے کہ آئی سی یو اور اسی طرح کے وارڈز میں کام کرنے والوں کو حفاظتی آلات پہلے فراہم کیے جائیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG