کرونا وائرس نے 500 سال پرانی چکّی دوبارہ چلا دی
کوسووو میں پانی سے چلنے والی ایک چکّی لگ بھگ پانچ صدیاں پرانی ہے۔ برقی مشینوں کے آ جانے سے یہ چکّی کبھی آٹا پسوانے والوں کی راہ تکتی تھی، لیکن اب وہاں اتنا رش ہے کہ چکّی کے مالکان کو سر کھجانے کی فرصت نہیں۔ کرونا وائرس نے اس چکی کو دوبارہ کیسے چلایا؟ دیکھیے اس ویڈیو میں
تبلیغی جماعت سے زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی: اسپیکر پنجاب اسمبلی
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت سے کوئی ظلم و زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ تبلیغی جماعت پُر امن ضرور ہے لیکن لاوارث نہیں۔
ان کا ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شیئر کیا جا رہا ہے۔
چوہدری پرویز الہی کا مزید کہنا تھا کہ تبلیغی جماعت کے معاملے پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بھی رابطہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا یورپ، امریکہ اور اٹلی میں بھی کرونا وائرس تبلیغی جماعت کی وجہ سے پھیلا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے خلاف منفی پروپیگنڈا بند کیا جائے اور زیر حراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
امریکہ کے بعد اٹلی اور اسپین میں بھی متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز
دنیا بھر میں کرونا وائس کے کیس کی تعداد 8 لاکھ 72 ہزار سے متجاوز کر چکی ہے جب کہ وبا سے عالمی سطح پر 43ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں امریکہ کے بعد یورپی ممالک اسپین اور اٹلی بھی چین سے آگے نکل چکے ہیں۔
امریکہ میں وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 4059 ہےجب کہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 89 افراد تک پہنچ چکی ہے۔
یورپی ممالک اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹلی میں ایک لاکھ چھ ہزار کیسز سامنے آئے جب کہ 12428 افراد کی موت ہوئی۔ اسی طرح اسپین میں ایک لاکھ دو ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ اموات کی تعداد 9ہزار سے متجاوز کر چکی ہے۔
- By سہیل انجم
بھارت میں کیسز کی تعداد 1637 ہو گئی، 38 افراد ہلاک
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بستی حضرت نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے مرکز میں موجود افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں کیسز کی تعداد 1637 ہو گئی ہے جب کہ 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق مرکز نظام الدین میں 13 سے 15 مارچ تک اجتماع میں شریک تمل ناڈو کے 50 افراد،دہلی کے 24،تلنگانہ کے 21،آندھرا پردیش کے 21، انڈمان نکوبار کے 10 جب کہ آسام اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ایک فرد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
وزارت داخلہ کے مطابق 824 غیر ملکی باشندوں نے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے۔
ان تمام کی تفصیل دہلی پولیس کے سربراہ کو فراہم کر دی گئی ہے۔
تبلیغی جماعت کے اس اجتماع میں انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، ایران، گھانا، ماریشس، تنزانیہ، برونائی دارالسلام، تھائی لینڈ، کرغزستان، جنوبی افریقہ، برطانیہ، امریکہ، فرانس، فلپائن، سری لنکا، نیپال اور کینیا کے باشندے شریک تھے جب کہ بھارت کی مختلف ریاستوں کے لوگوں نے بھی شرکت کی تھی۔
دیگر ممالک کے 250 باشندوں کو تو قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے 20 غیر ملکیوں میں وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں ایک 68 سالہ فلپائنی بھی شامل تھا جس کی ممبئی کے ایک اسپتال میں موت ہوگئی تھی۔
اس کے علاوہ ملائیشیا کی ایک 22 سالہ خاتون بھی وائرس سے متاثر ہیں۔ وہ اس وقت جھارکھنڈ میں زیر علاج ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کے بعد بہت سے افراد ملک کے مختلف علاقوں میں واپس جا چکے ہیں۔ حکام اب ان تمام افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔