تفتان قرنطینہ مرکز میں زائرین اب بھی پریشان
تفتان کے قرنطینہ مرکز میں موجود ایران سے آنے والے پاکستانی زائرین اب بھی سہولیات نہ ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں۔ بعض زائرین کا کہنا ہے کہ تفتان میں قائم قرنطینہ مرکز ان کے لیے جیل بن چکا ہے۔ قرنطینہ میں موجود ایک تاجر خود کو درپیش مشکلات اور حالات بتا رہے ہیں۔ دیکھیے اس رپورٹ میں
کرونا وائرس سے بچاؤ کے انوکھے ماسک
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک کا استعمال عام ہے جب کہ بعض ممالک میں کچھ انوکھے ماسک بھی استمال کیے جا رہے ہیں۔ منفرد ماسک دیکھیے اس پکچر گیلری میں۔
- By شمیم شاہد
پاکستان ميں مقيم افغان مہاجرين کے متاثر ہونے کا خدشہ
کرونا وائرس کے باعث پاکستان ميں مقيم 14 لاکھ سے زائد افغان مہاجرين اور باشندوں کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجريں (يو اين ايچ سی آر) کے مطابق پاکستان ميں مقيم بيشتر افغان مہاجرين کچی آباديوں ميں رہتے ہيں۔
حکومت پاکستان طورخم اور چمن بارڈر کو آمد رفت کے لیے بند کر چکی ہے۔
پاکستان ميں کرونا وائرس کے تصديق شدہ کيسز کی تعداد 2200 سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ 31 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستان ميں مقیم افغان مہاجرين بھی کرونا وائرس کے ممکنہ پھيلاؤ سے پريشان ہيں۔
ان کے مطابق ابھی تک تو حالات قابو ميں ہيں تاہم وائرس کے وبائی شکل اختیار کرنے کی صورت ميں کيمپس کے حالات بگڑ سکتے ہیں۔
پاکستانی معیشت پر تباہ کن اثرات کا خدشہ، آئل ریفائنریز بھی بند
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ڈھائی کھرب امریکی ڈالرز کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جو اس بحران سے معاشی طور پر شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی عالمی کساد بازاری بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے علاوہ افریقہ کے بعض ممالک، لاطینی امریکہ، جنوبی کوریا، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کی معیشتوں پر کرونا وائرس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب ملک بھر میں بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی کے باعث بیشتر آئل ریفائنریز کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں بجلی کی کھپت 30 فی صد، پیٹرولیم مصنوعات کی 70 فی صد اور گیس کی کھپت 50 فی صد کم ہو گئی ہے۔ 80 فی صد صنعتیں بند ہونے سے لاکھوں لوگوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
جن دو ریفائنریز کو فی الحال پیداوار جاری رکھنے کا کہا گیا ہے ان میں پارکو درآمدی اور مقامی خام تیل کو استعمال کرتی ہے جبکہ اٹک ریفائری زیادہ تر مقامی خام تیل کو استعمال کرتی ہے۔