کرونا کے خلاف طویل جنگ لڑنی پڑے گی: عمران خان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ کرونا وائرس کے خلاف ہمیں طویل جنگ لڑنی پڑے گی۔ سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں پر عوام کان نہ دھرے۔
عمران خان نے کہا کہ کرونا پاکستانی عوام کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس مشکل صورتِ حال میں جو ثابت قدم رہا، اُسے قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ مشکل دور میں ہی انسان کے ایمان کا پتا چلتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اُن کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی پیکج دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانچ سے چھ کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
عمران خان نے لاہور کے ایکسپو سینٹر میں قائم عارضی اسپتال کا بھی دورہ کیا۔
اپنے ہاتھ کو چہرہ چھونے سے کیسے روکا جائے
نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ کسی سے یہ کہنا کہ وہ اپنے چہرے کو نہ چھوئے، کارگر نہیں ہے۔ بلکہ اگر آپ کسی کو بار بار روکتے ٹوکتے اور یاد دلاتے رہیں گے تو اسے غصہ آنا شروع ہو جائے گا۔ یہ عادت چھڑانے کے لیے کچھ اور طریقوں پر عمل کرنے سے بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔ ان میں سے چند طریقے یہ ہیں۔
چہرہ چھونے کی گنتی کریں
آپ کچھ وقت طے کریں۔ مثلاً آدھا گھنٹہ یا پندرہ منٹ یا کچھ اور۔ اپنے سمارٹ فون کی سٹاپ واچ آن کر کے آپ یہ گنیں کہ اس مقررہ وقت میں کتنی بار آپ اپنا ہاتھ چہرے پر لے جاتے ہیں۔ نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ پہلی بار یہ گنتی زیادہ ہو گی۔ جب آپ دوسری بار یہ عمل دوہرائیں گے تو اس میں کمی آئے گی۔ تیسری بار تعداد مزید کم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سادہ عمل سے چہرہ چھونے کی عادت میں 60 سے 70 فی صد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
متبادل تلاش کریں
کسی عادت سے چھٹکارہ پانے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کا متبادل ڈھونڈیں۔ مثال کے طور پر جب چہرہ چھونے کو دل چاہے تو آپ اپنی قمیض کا کالر ٹھیک کرنے لگ جائیں۔ اگر چہرے کے کسی حصے پر کھجلی محسوس ہو رہی ہو تو آپ اپنے بازو کا کوئی حصہ کھجانا شروع کر دیں۔ بظاہر یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ کھجلی چہرے پر ہو تو بازو کیوں کجھایا جائے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کھجلی تو چہرے پر بھی نہیں ہو رہی ہوتی، اصل میں آپ کو عادتاً کھجلی کا احساس ہوتا ہے تاکہ آپ ہاتھ چہرے کو لگا سکیں۔
پاکستان میں پھنسے افغان شہریوں کی واپسی، چار روز کے لیے سرحد کھولنے کا اعلان
ایک بیان میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان حکومت کی خصوصی درخواست اور بنیادی انسانی ضروریات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیر کے روز سے چار دن کے لیے طورخم اور چمن کی اہم سرحدیں کھولی جا رہی ہیں، تاکہ پھنسے ہوئے افغان شہری اپنے وطن واپس جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ایک ہمسائے کے طور پر، جس کے ساتھ ہمارے قریبی باہمی تعلقات ہیں، پاکستان کے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کے رشتے ہیں، اور پھر خاص طور پر ایسے وقت میں، جب ایک عالمی وبا پھوٹ پڑی ہے'' یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔
ہفتے کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 2700 ہے، جب کہ اب تک کم از کم 41 ہلاکتیں واقع ہو چکی ہیں۔
انڈین پریمئیر لیگ کو مختصر کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
انڈین پریمئیر لیگ کو مختصر کرنے اور اسے تماشائیوں کی شرکت کے بغیر کرانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کھلاڑی بھی اس حق میں ہیں کہ اسے مختصر کرکے رواں سال کے آخر میں منعقد کرایا جائے۔
ان کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے سابق بیٹسمین کیون پیٹرسن، بین اسٹوکس اور کمنس، بھارت کے سابق کرکٹر سنجے منجریکر یہاں تک کہ بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی بھی اس حق میں ہیں کہ لیگ کو مختصر کردیا جائے تو رواں سال ہی اس کا انعقاد ممکن ہے۔
کھلاڑیوں نے کرکٹ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سال کے آخر میں ایک ٹی 20 انڈین پریمیئر لیگ کے انعقاد کی منصوبہ بندی کریں تاکہ کرونا وائرس کے باعث طویل لاک ڈاؤن کے بعد کھیلوں سے متعلق سرگرمیاں بحال ہوسکیں اور اس کے کھیلوں کی معشیت پر اچھے اثرات مرتب ہوسکیں۔
دنیا کے مہنگے ترین کرکٹ ٹورنامنٹس میں سے ایک 'انڈین پریمیئر لیگ' کو فی الحال 15 اپریل تک ملتوی کیا گیا ہے۔ التوا کی وجہ بھارت میں جاری 21 روزہ لاک ڈاؤن ہے۔