- By شمیم شاہد
پاکستان سے افغان باشندوں کی واپسی شروع
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیشِ نظر افغانستان کے ساتھ بند کی جانے والے طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں کو پاکستان نے چار دن کے لیے کھول دیا ہے۔ سرحدی راستے کھلنے سے افغان باشندے واپس اپنے ملک جا سکیں گے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طورخم کے راستے روزانہ ایک ہزار افغان باشندوں کو افغانستان واپس جانے میں مدد فراہم کی جائے گی۔
وزارت داخلہ کے احکامات پر پاک افغان سرحد طور خم کو چار دنوں کے لیے جزوی طور پر کھولا کیا گیا ہے۔ جو کہ پیر چھ اپریل سے جمعرات نو اپریل تک افغان شہریوں کی واپسی کے لیے کھلی رہے گی جب کہ پالیسی کے تحت یومیہ صرف ایک ہزار افغان شہری سرحد عبور کر کے افغانستان جا سکیں گے۔
سرحدی گزر گاہ پر پیر کی صبح چھ بجے سے افغان شہریوں کی واپسی شروع ہو گئی تھی۔
کرونا وائرس سے پیدا شدہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سرحد پر میڈیکل ٹیم تعینات ہے جو افغان شہریوں کی اسکریننگ کر رہی ہے۔
'پاکستان میں 35 ہزار 875 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں'
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 3277 ہو گئی ہے جب کہ وائرس سے 50 افراد کی موت ہوئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 35 ہزار 875 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 397 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
ملک بھر میں کیسز کی تعداد میں پنجاب میں 1493 کیسز، سندھ میں 881، خیبر پختونخواہ میں 405، بلوچستان میں 191، گلگت بلتستان میں 210، اسلام آباد میں 82 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 15 کیسز سامنے آئے ہیں۔
ایران سے دو لاکھ افغان شہریوں کی واپسی
ایران سے افغانستان حالیہ ہفتوں میں دو لاکھ شہری واپس آئے ہیں تاہم ان میں اکثر کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ نہیں کیے گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق ایران سے واپس آنے والے افغان شہریوں کی تعداد دو لاکھ سے زائد ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں 60 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 3700 افراد کی موت چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان باشندے ایک ایسے ملک سے نکل رہے ہیں جسے کرونا وائرس کے بڑے مراکز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے جب کہ جنگ سے تباہ حال افغسنتان اس وبا سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
جو افغان شہری وطن واپس لوٹ رہے ہیں ان کا ٹیسٹ بھی نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ نہ ہونے کے نتیجے میں امکان ہے کہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر یہ وبا پھیل سکتی ہے جب کہ صحت کے شعبے پر بہت بوجھ آ سکتا ہے۔
افغانستان کے حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایران دس لاکھ افغان شہریوں کو واپس جانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ مارچ میں ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد افغان باشندے ایران سے واپس آئے ہیں۔
افغانستان میں حکام نے اب تک صرف 367 کرونا وائرس کے کیسز کی تصدیق کی ہے جب کہ 7 افراد کی موت اس وبا سے ہوئی ہے۔
کرونا کے شکار برطانوی وزیر اعظم اسپتال منتقل
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن، جن کا ایک ہفتہ قبل کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، کو مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہیں مسلسل تیز بخار کی شکایت ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے برس جانسن کے اسپتال میں داخل ہونے کو حفاظتی اقدام قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ حکومتی نظام چلاتے رہیں گے۔
برطانیہ بھی ان ممالک میں شامل ہے جن میں کرونا وائرس کی وبا شدت اختیار کر چکی ہے۔ اب تک اس وبا سے برطانیہ میں 4900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری طور پر 47 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔