- By سہیل انجم
تبلیغی جماعت کے پروگرام میں شرکت: 'خود سامنے آجائیں ورنہ قتل کا مقدمہ ہوگا'
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 4067 ہو گئی ہے جب کہ وبا سے 109 ہلاکتیں ہوئی ہیں.
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں 490 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
ممبئی کے اوکہارڈ اسپتال کے تین ڈاکٹرز اور 26 نرسوں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اسپتال کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جب کہ کیسز میں اضافے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گُلیریا کا کہنا ہے کہ ملک کے بعض علاقوں میں کرونا وائرس کمیونٹی کی سطح پر پہنچ گیا ہے یعنی اسٹیج تھری میں داخل ہو گیا ہے۔
ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں سے خطاب میں کہا ہے کہ کرونا کے خلاف لڑائی لمبی جا سکتی ہے۔ ہمیں تھکنا نہیں ہے۔
ان کے بقول اس کے خلاف فاتح ہو کر ابھرنا ہے۔
ریاست اتراکھنڈ کی پولیس نے ایک وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ حالیہ دنوں میں تبلیغی جماعت کے کسی پروگرام میں شریک ہوئے ہوں وہ از خود سامنے آجائیں ورنہ اگر ان کے ذریعے انفیکشن کی اطلاع ملی تو ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق تبلیغی جماعت کے دہلی میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کرنے والوں اور ان کے متعلقین میں سے 21200 افراد کو قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ جن میں 2000 غیر ملکی بھی ہیں۔
کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم مذہب، ذات برادری اور طبقات کے اختلافات کو فراموش کرکے ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہوں۔
کوئٹہ میں ڈاکٹرز گرفتار، سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال
بلوچستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر حفاظتی طبی سامان کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹروں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
طبی عملے کی گرفتاریوں کے بعد صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں نے ہڑتال شروع کردی ہے۔
پیر کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز نے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو حفاظتی کٹس اور دیگر ضروری سامان فراہم نہ کرنے کے خلاف 'سول سنڈیمن اسپتال' سے ریلی نکالی۔
پولیس حکام نے ڈاکٹروں کو باور کرایا کہ کوئٹہ میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ اس لیے جلوس اور دھرنا فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اس کے بعد پولیس اور ڈاکٹروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
اس واقعہ کے فوراً بعد ڈاکٹروں نے صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جس کے بعد کوئٹہ شہر اور دیگر اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان میں کرونا وائرس کے اب تک 192 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 12 ڈاکٹرز بھی ہیں۔
صوبائی کابینہ نے ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹس کی فراہمی اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے دیگر مطالبات کا جائزہ لیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق حفاظتی کٹس (پی پی ای) ڈاکٹروں کے مطالبات کے مطابق اُن کے نمائندوں کو فراہم کر دی گئی ہیں اور انہیں مزید کٹس بھی دی جائیں گی۔
امریکی بحری بیڑے کے برطرف کپتان میں کرونا وائرس کی تشخیص
امریکہ کے محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کو بحری بیڑے 'روز ویلٹ' پر موجود اہلکاروں کو کرونا وائرس سے لاحق خطرات سے متعلق خبردار کرنے پر برطرف کیے جانے والے کپتان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو گئی ہے۔
بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا تھا کہ بیڑے پر کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس مہلک وائرس سے چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا تھا کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں اہلکار اپنی جانیں دیں۔
یہ خط منظر عام پر آنے کے بعد بریڈ کروزیئر کو برطرف کردیا گیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ ںے ہفتے کو پریس کانفرنس کے دوران کپتان بریٹ کی برطرفی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کپتان کو اپنے خط میں ایسا نہیں لکھنا چاہیے تھا۔
پنجاب حکومت کی لاک ڈاؤن میں نرمی، چند صنعتیں کھولنے کی اجازت
پنجاب حکومت نے کرونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں قدرے نرمی کرتے ہوئے چند صنعتیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ صنعتیں احتیاطی انتظامات کے بعد ہی کھل سکیں گی۔
حکومت پنجاب نے بڑی صنعتوں کے مخصوص پیداواری یونٹس کھولنے کا فیصلہ دیہاڑی دار مزدوروں کی مشکلات کو کم کرنے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو کم کرنے کے باعث کیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کھولے جانے والی صنعتوں میں ٹیکسٹائل، اسپورٹس، گڈز اور فارما انڈسٹری شامل ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چمڑے کی صنعت، آٹو پارٹس، فروٹ، سبزی، گوشت، ٹیکسٹائل، اسپورٹس، سرجیکل اور طبی آلات بنانے والی صنعتیں محدود ملازمین اور حفاظتی انتظامات کے ساتھ کام شروع کر سکتی ہیں۔
ایوان صنعت وتجارت لاہور کے صدر عرفان اقبال شیخ کہتے ہیں کہ حکومت پنجاب نے جو صنعتیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے وہ برآمد کنندگان، تاجروں اور صنعت کاروں کی مشاورت سے کیا ہے۔
عرفان اقبال شیخ نے بتایا کہ تمام صنعت کاروں اور تاجروں نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام کارخانوں میں ایک ڈاکٹر، سینیٹائزر گیٹ، انسانی درجہ حرارت جانچنے والے آلات، ماسک، دستانے اور جگہ جگہ سینیٹائزر کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق لاہور، ملتان، فیصل آباد، شیخو پورہ، مریدکے، سرگودھا، ساہیوال، قصور، سیالکوٹ، راولپنڈی اور سمبڑیال میں قائم 118 مختلف صنعتوں کو کھولا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صنعتوں میں دفعہ 144 نافذ رہے گی جس کے مطابق کسی بھی کارخانے میں 10 مزدور یا عملے کے لوگ اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔