ترکی میں لاک ڈاون کا امکان
ترکی ان ممالک میں شامل ہے جہاں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ملک کا سب سے بڑا شہر استنبول وبا کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا اصرار ہے کہ ترکی کی معیشت کا پہیہ چلتے رہنا چاہیے۔
صدر کے اس اصرار پر بعض کاروباری لوگ بھی پریشان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن ضروری ہے۔
استنبول شہر کے میئر اکرم اماموگولو نے بھی یہ کہتے ہوئے استنبول کو مکمل طور سے بند کرنے کے لیے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر اب بھی بہت زیادہ تعداد میں لوگ موجود ہیں۔
- By مدثرہ منظر
'خوف کی بڑی وجہ کرونا سے ہونے والی اموات کی شرح ہے'
امریکہ کی نصف آبادی کو کرونا وائرس نے ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔
خوف اور بے یقینی کی فضا نے ایک عام شہری کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ صرف لمحہ موجود میں زندہ رہے۔ ہر دن اس انداز میں گزارے کہ کوئی ایسی بے احتیاطی نہ ہو کہ اسے وائرس کا شکار کر دے۔
اگر گھر میں کسی کا کرونا کا ٹیسٹ مثبت آ جائے تو آئندہ دنوں کا خوف پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
اب کیا ہوگا؟ کیا اس کی جان بچ جائے گی؟ کیا ہم سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے؟ یہ خوف اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کو مطمئن اور پر سکون زندگی سے بہت دور لے گیا ہے۔
ڈاکٹر سہیل چیمہ نیویارک میں سرٹیفائڈ سائکیٹرسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے خوف کی بڑی وجہ اس سے ہونے والی اموات کی شرح ہے۔
ان کے بقول انسان کو سب سے زیادہ خوف موت کا ہی ہوتا ہے اور پھر ایسی بیماری جس کا علاج ہی موجود نہیں اور اس کے بارے میں معلومات بھی محدود ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں میں ایک سراسیمگی پائی جاتی ہے۔
سہیل چیمہ کے مطابق لاک ڈاؤن نے اس خوف میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایک تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث ذہنی امراض کی شدت میں 36 فی صد اضافہ ہوا ہے۔