بھارت: ویران سڑکوں پر خوراک کے متلاشی جانوروں کا راج
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث دنیا بھر میں جزوی لاک ڈاؤن ہے۔ کروڑوں لوگ گھروں تک محدود ہیں۔ ایسے میں جہاں ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئی ہے۔ وہیں بھارت کی ویران سڑکوں پر بندروں، کتوں اور دیگر جانوروں کا راج ہے۔
بندر، آوارہ کتے اور دیگر جانور دارالحکومت نئی دہلی، ممبئی، کولکتہ اور دیگر شہروں کی ویران سڑکوں کا فائدہ اُٹھا کر کھلے عام مٹر گشت کرتے نظر آتے ہیں۔
کرونا وائرس کے باعث ان جانوروں کو بھی خوراک کے حصول سمیت دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن سنسان شاہراہوں اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کے ارد گرد یہ جانور بلا روک ٹوک گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بندروں کے غول نئی دہلی میں بھارتی صدر کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ اور وزرا کی رہائش گاہوں کے قریب منڈلاتے نظر آتے ہیں۔
اسلام آباد کے اسپتالوں میں آؤٹ ڈور شعبہ جات کھول دیے گئے
اسلام کی ضلعی انتظامیہ نے دارالحکومت کے سرکاری اسپتالوں میں بند کیے جانے والے آؤٹ ڈور شعبہ جات دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے نوٹی فکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی مشکلات میں کمی کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔
ووہان کے شہریوں کو دوسرے شہروں کا سفر کرنے کی اجازت
کرونا وائرس کا مرکز سمجھے جانے والے چین کے وسطی شہر ووہان کے شہریوں کو لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اب دوسروں شہروں کا سفر کرنے کی بھی اجازت مل گئی ہے۔ ووہان میں مکمل لاک ڈاؤن لگ بھگ تین ماہ تک جاری رہا۔
چین کے محکمہ ہوابازی نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز ووہان آنے اور ووہان سے باہر جانے والی پروازوں کی تعداد 221 رہی۔ یہ پہلا دن تھا جب ووہان کے شہریوں کو سفر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس شہر میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے پل، سرنگیں اور ہائی ویز تین ماہ تک بند رہے۔ تاہم بدھ کو ان راستوں سے پانچ لاکھ شہریوں نے سفر کیا۔
ووہان سے صرف ان شہریوں کو سفر کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جن کے سیل فون پر موجود صحت کے ایپ میں سبز رنگ کا نشان دکھائی دیتا ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ صحت مند ہیں اور سفر کرنے کے قابل ہیں۔
صدر ٹرمپ کی ڈبلیو ایچ او پر ایک بار پھر تنقید
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روک رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ وبا سے متعلق ڈبلیو ایچ او درست اعداد و شمار فراہم نہیں کر سکا۔
صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ عالمی ادارہ صحت پر چین کی طرف جھکاؤ کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ جہاں سب سے پہلے یہ وبا پھوٹی تھی۔
امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو صدر ٹرمپ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ لہذٰا امریکہ اس ادارے کے لیے فراہم کی جانے والی فنڈنگ کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ عالمی ادارہ صحت کو فراہم کی جانے والی فنڈنگ جاری کرنے کا فیصلہ کرتے وقت اس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کی طرف سے عالمی ادارہ صحت پر تنقید مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہی۔ امریکہ اقوام متحدہ کے اس ادارے کو فنڈنگ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کے اہلکار صدر ٹرمپ کی تنقید کو بلاجواز قرار دے رہے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او حکام کا کہنا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے بعد تعین کیا جائے گا کہ اس وبا پر ادارے اور ممالک کا ردعمل کیا تھا۔