بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کووڈ-19 کے کیسز 200 سے متجاوز
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز 200 سے بڑھ گئے ہیں۔ جمعرات کو مزید 24 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں وائرس سے ہلاکتیں چار ہو گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریضوں کی ان افراد سے قریبی تعلق یا رشتہ داری ہے جو پہلے سے ہی اس وائرس کا شکار ہیں۔ بھارتی کشمیر میں 40 ہزار افراد کو زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے۔
جموں و کشمیر کے لگ بھگ سو علاقوں کو 'ریڈ زون' یا 'بفر زونز' قرار دیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں جراثیم کش اسپرے بھی کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کا ترامڑی چوک 16 کیسز رپورٹ ہونے پر سیل
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترامڑی چوک کو کرونا وائرس کے 16 مثبت کیسز سامنے آنے کے بعد سیل کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے ٹوئٹ کی ہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سماجی دوری کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔
نیویارک میں کرونا وائرس کا زور ٹوٹنے لگا
کرونا وائرس نے سب سے بڑا حملہ امریکی ریاست نیویارک پر کیا ہے۔ یہاں مریضوں کی تعداد دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ ہے، یعنی ایک لاکھ 60 ہزار۔ اموات کی تعداد سینکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں ہے۔ اٹلی، اسپین اور فرانس کے سوا کسی اور ملک میں اتنے لوگ نہیں مرے۔
ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو ہر روز میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں۔ ان کی دکھ بھری گفتگو میں کوئی اچھی خبر نہیں ہوتی۔ لیکن جمعرات کو ان کے لہجے میں امید کی جھلک تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اموات کم نہیں ہوئیں، لیکن مریضوں کی تعداد پہلے جیسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ شاید یہ اشارہ ہے کہ وبا کا عروج گزر گیا ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں میں نیویارک کے اسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض پہنچ رہے تھے۔ ہر روز پہلے سے 20 فیصد سے بھی زیادہ۔ اس ہفتے یہ تعداد 10 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔
کرونا وائرس کا خوف،برتھ کنڑول کے ہزاروں مراکز بند، نتیجہ کیا نکلے گا
افریقی ملک زمبابوے کے دیہی علاقے کی اکثر عورتیں ان دنوں ایک ہی سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ برتھ کنٹرول کے دفتر دوبارہ کب کھلیں گے۔ عالمی وبا کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے وجہ جہاں سکول، کاروباری مراکز اور دفاتر بند ہیں، وہاں برتھ کنٹرول کے بہت سے مراکز میں بھی تالے لگ گئے ہیں۔
یہ صرف زمبابوے کا مسئلہ نہیں ہے۔ براعظم افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے بہت سے ملکوں کو بھی لوگوں کو اسی پریشانی کا سامنا ہے۔
زمبابوے میں برتھ کنٹرول سے متعلق ایک ادارے کی ڈائریکٹر ابیبے شبرو کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی اس صورت حال میں دیہاتی علاقوں کے لوگوں کے پاس کچھ اور کرنے کو ہے ہی نہیں۔
افریقہ کے اٹھارہ ملکوں میں قومی پیمانے پر لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ روانڈا قرن صحارا کا پہلا ملک ہے جس نے وائرس کے خطرے کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا جس میں اب مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کی غرض سے ان ملکوں میں دیہی علاقوں تک میں خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز کا جال بچھا ہوا ہے۔ مگر اب عملے اور وہاں آنے والی خواتین کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے کلینک بند کر دیے گئے ہیں۔