'ہم یہ کر دکھائیں گے'
اٹلی میں کرونا وائرس کا علاج کرنے والے طبی عملے کے ارکان نے اپنے دستانوں پر لکھا ہوا ہے کہ "ہم یہ کر دکھائیں گے۔" خیال رہے کہ اٹلی میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لیکن اب وہاں وبا کا زور ٹوٹ رہا ہے۔
پاک افغان سرحد عوام کے لیے بند، 20 ہزار سے زائد افغان باشندے واپس چلے گئے
کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ چار روز تک جاری رہنے کے بعد جمعے کو بند ہو گیا ہے۔
وفاقی وزارتِ داخلہ کے اعلامیے کے مطابق طورخم اور چمن کی گزرگاہوں کو چھ اپریل سے نو اپریل تک پاکستان میں پھنسے افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کھولا گیا تھا۔
پاکستانی حکومت کے فیصلے کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار افغان باشندوں کی افغانستان واپسی کا انتظام کیا گیا تھا۔ مگر اس رعایت سے فائدہ اٹھانے والے افغان باشندوں کی تعداد 20 ہزار سے بھی زائد بتائی جاتی ہے۔
پاکستانی حکومت کی طرف سے دی گئی اس خصوصی رعایت کے دوسرے روز سات اپریل کو ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندے طورخم اور سرحدی قصبے لنڈی کوتل میں جمع ہو گئے۔ جن کو قابو کرنا سرحدی حکام کے بس میں نہیں تھا۔
لہذٰا پاکستان سے واپس جانے والے افغان باشندوں کے لیے سرحد کھول دی گئی اسی روز ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندے بغیر کسی پاسپورٹ، ویزہ اور دیگر سفری دستاویزات کے پاکستان سے افغانستان واپس چلے گئے۔
کرونا وائرس سے ہلاکتیں ایک لاکھ سے بڑھ گئیں، متاثرین 17 لاکھ
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ امریکہ میں مزید 1500 اور فرانس اور برطانیہ میں لگ بھگ ایک ایک ہزار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جمعے کو 84 ملکوں میں کم از کم ایک ہلاکت ضرور ہوئی۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے تک 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے 16 لاکھ 80 ہزار کیس سامنے آچکے تھے، جن میں سے ایک لاکھ دو ہزار افراد چل بسے تھے۔
امریکہ میں جمعے کو 1564، فرانس میں 987، برطانیہ میں 980، اٹلی میں 570، اسپین میں 523، بیلجیم میں 496، ایران میں 122، نیدرلینڈز میں 115 اور برازیل میں 103 افراد کا انتقال ہوا۔
ترکی میں 98، جرمنی میں 81، سویڈن میں 77، سوئزرلینڈ میں 54 اور کینیڈا میں 47 افراد ہلاک ہوئے۔ چین میں جمعہ کو صرف ایک اور جنوبی کوریا میں چار اموات ہوئیں۔ جاپان میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔
امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد اٹلی سے صرف 600 کم رہ گئی ہے۔ اٹلی میں 18849 اور امریکہ میں 18255 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسپین میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15970، فرانس میں 13197، برطانیہ میں 8958، ایران میں 4232، چین میں 3336 اور بیلجیم میں 3019 ہوچکی ہے۔
امریکہ میں اب تک کرونا وائرس کے 25 لاکھ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 4 لاکھ 90 ہزار مثبت آئے ہیں۔ اسپین میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 57 ہزار، اٹلی میں ایک لاکھ 47 ہزار، فرانس میں ایک لاکھ 24 ہزار اور جرمنی میں ایک لاکھ 20 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
مختلف ملکوں میں 50 ہزار مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ ان میں امریکہ کے 10900، اسپین کے 7300، فرانس کے 7 ہزار، جرمنی کے 4900، ایران کے 4 ہزار اور اٹلی کے ساڑھے 3 ہزار مریض شامل ہیں۔
صحت یاب ہونے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہورہا ہے اور ان کی تعداد 3 لاکھ 75 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ چین کے 77 ہزار، اسپین کے 55 ہزار، جرمنی کے 54 ہزار، ایران کے 35 ہزار، اٹلی کے 30 ہزار، امریکہ کے 26 ہزار اور فرانس کے 25 ہزار شہری صحت یاب ہوچکے ہیں۔
برطانیہ کے 73 ہزار میں سے صرف 135 مریض مکمل صحت یاب ہوئے ہیں۔ گرین لینڈ میں صرف 11 کیسز کا علم ہوا تھا اور تمام افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔
نیویارک میں گھر پر مرنے والوں کی تعداد میں 8 گنا اضافہ
آپ سب نے ایک بار نہیں کئی بار ضرور سوچا ہو گا کہ جب لاک ڈاون ختم ہو گا، جب شہر، دکانیں اور مکان سب پھر سے کھل جائیں گےِِِِ، سڑکیں اور شاہراہیں گاڑیوں سے ایک بار پھر بھر جائیں گی، آسمان پر اڑتے جہازوں کی آوازیں پردیس میں بیٹھے تارکین وطن کیلئے ایک بار پھر وطن جانے کی خواہش کو دو چند کر دیں گی۔ کام پر روزانہ نظر آنے والے ساتھی ایک بار پھر سے ساتھ ہو جائیں گے، تو کیا اس وقت زندگی کا ڈھب ایسا ہی ہوگا جیسا کرونا وائرس سے پہلے تھا۔ تو جناب اس کا جواب آپ کا انداز فکر دے گا۔
اگر آپ ہر ایونٹ اور تجربے سے کچھ سیکھتے ہیں اور مثبت انداز فکر رکھتے ہیں، انسانی اقدار اور انسانیت پر آپ کا یقین ہے تو پھر آپ لاک ڈاون ختم ہونے کے بعد وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوں گے جو آپ نے کرونا کی وبا سے پہلے سوچا تھا اور زندگی جہاں تھم گئی تھی۔ وہیں سے آپ ایک نئے جذبے کے ساتھ پھر سے شروع کریں گے، بالکل ویسے ہی جیسے سعودی عرب کے کلیدی انگریزی روزنامے’عرب نیوز‘ کے ایک ایڈیٹر اور تجزیہ کار سراج وہاب کا خیال ہے۔
سراج وہاب نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سے رجائیت پسند رہے ہیں اس لئے وہ ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھتے ہیں چاہے وہ آفات ہی کیوں نہ ہوں۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ کرونا وائرس کی آفت بھی کچھ ایسا ہی المیہ ہے جو ہمیں بہتر انسان بنائے گا اور ہم اپنے آپ کو اپنے رویوں کو بہتر بنا سکیں گے۔
سراج وہاب کہتے ہیں کہ ایک لمبے عرصے سے ہم ’گلوبل ویلیج‘ کا لفظ سنتے آ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اصطلاح سے مراد دنیا کے ہر کونے کو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے آپس میں مربوط کرنا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ دور کتنا ہے یا کتنا انجانا ہے۔ پھر ’گلوبل ویلیج‘ سے ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے سرے پر صورتحال درحقیقت کیا ہے۔ دنیا کے دور افتادہ علاقوں میں ہونے والے واقعات بھی ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔
کرونا وائرس کی وبا نے ہمیں اس ’گلوبل ویلیج‘ کی حقیقت سے پوری طرح آگاہی دی ہے۔ یہ محض باہمی رابطوں ہی کی بات نہیں بلکہ حقیقت سے آگاہی بھی ہے کہ کسی ایک جگہ پر واقع ہونے والا المیہ یا پھر اس نوعیت کی وبا اور اس کے اثرات دنیا بھر کو متاثر کر سکتے ہیں اور کرہ ارض کے ہر حصے میں اس کی شدت محسوس کر سکتے ہیں۔