- By بہجت جیلانی
کرونا وائرس کے بعد کی زندگی کیسی ہو گی؟
آپ سب نے ایک بار نہیں کئی بار ضرور سوچا ہوگا کہ جب لاک ڈاون ختم ہوگا، جب شہر، دکانیں اور مکان سب پھر سے کھل جائیں گےِِِِ، سڑکیں اور شاہراہیں گاڑیوں سے ایک بار پھر بھر جائیں گی، آسمان پر اڑتے جہازوں کی آوازیں پردیس میں بیٹھے تارکین وطن کیلئے ایک بار پھر وطن جانے کی خواہش کو دو چند کر دیں گی۔ کام پر روزانہ نظر آنے والے ساتھی ایک بار پھر سے ساتھ ہو جائیں گے، تو کیا اس وقت زندگی کا ڈھب ایسا ہی ہوگا جیسا کرونا وائرس سے پہلے تھا۔ تو جناب اس کا جواب آپ کا انداز فکر دے گا۔
اگر آپ ہر ایونٹ اور تجربے سے کچھ سیکھتے ہیں اور مثبت انداز فکر رکھتے ہیں، انسانی اقدار اور انسانیت پر آپ کا یقین ہے تو پھر آپ لاک ڈاون ختم ہونے کے بعد وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوں گے جو آپ نے کرونا کی وبا سے پہلے سوچا تھا اور زندگی جہاں تھم گئی تھی۔ وہیں سے آپ ایک نئے جذبے کے ساتھ پھر سے شروع کریں گے، بالکل ویسے ہی جیسے سعودی عرب کے کلیدی انگریزی روزنامے’عرب نیوز‘ کے ایک ایڈیٹر اور تجزیہ کار سراج وہاب کا خیال ہے۔
سراج وہاب نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سے رجائیت پسند رہے ہیں اس لئے وہ ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھتے ہیں چاہے وہ آفات ہی کیوں نہ ہوں۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ کرونا وائرس کی آفت بھی کچھ ایسا ہی المیہ ہے جو ہمیں بہتر انسان بنائے گا اور ہم اپنے آپ کو اپنے رویوں کو بہتر بنا سکیں گے۔
سراج وہاب کہتے ہیں کہ ایک لمبے عرصے سے ہم ’گلوبل ویلیج‘ کا لفظ سنتے آ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اصطلاح سے مراد دنیا کے ہر کونے کو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے آپس میں مربوط کرنا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ دور کتنا ہے یا کتنا انجانا ہے۔ پھر ’گلوبل ویلیج‘ سے ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے سرے پر صورتحال درحقیقت کیا ہے۔ دنیا کے دور افتادہ علاقوں میں ہونے والے واقعات بھی ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔
کرونا وائرس کی وبا نے ہمیں اس ’گلوبل ویلیج‘ کی حقیقت سے پوری طرح آگاہی دی ہے۔ یہ محض باہمی رابطوں ہی کی بات نہیں بلکہ حقیقت سے آگاہی بھی ہے کہ کسی ایک جگہ پر واقع ہونے والا المیہ یا پھر اس نوعیت کی وبا اور اس کے اثرات دنیا بھر کو متاثر کر سکتے ہیں اور کرہ ارض کے ہر حصے میں اس کی شدت محسوس کر سکتے ہیں۔
- By بہجت جیلانی
کرونا وائرس سے نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کیسے کی جائے گی
تھائی لینڈ کے ایک اسپتال میں نومولود بچوں کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے خصوصی حفاظت کی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر نومولود بچوں کے چہرے پر خصوصی شیلڈ لگائی جا رہی ہے۔
اسپتال کے عملے کی جانب سے بھی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہیں جن میں نوزائیدہ بچوں کے چہروں پر شیشے کی طرح شفاف شیلڈ یا ماسک پہنائے گئے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کمسن افراد اور بزرگوں کو جلدی متاثر کرتا ہے اس لیے اُنہیں اس وائرس سے بچانے کے لیے خصوصی انتظامات لازم ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق نومولود بچوں کو حفاظتی شیلڈ پہنانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ انہیں کرونا وائرس سے محفوظ رکھا جائے۔
مزید تفصیلات
کرونا وائرس: بیرونِ ملک پھنسے پاکستانی وطن واپسی کے لیے مزید صبر کریں
‘ہماری کوئی مدد نہیں کررہا۔ ہم یہاں پر بے حال بیٹھے ہیں۔ پاکستان واپس آنا ہے، لیکن کسی جگہ ہماری شنوائی نہیں ہورہی۔’
یہ کہنا ہے ترکی میں موجود عمر مبین کا جو دیگر ہزاروں پاکستانیوں کی طرح بیرونِ ملک پھنسے ہوئے ہیں اور پاکستان واپسی کے لیے حکومت کی طرف نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
عمر مبین متحدہ عرب امارات سے ترکی پہنچے تھے اور اُنہیں پاکستان واپس آنا تھا۔ لیکن تمام بین الاقوامی پروازیں بند ہونے کے باعث وہ پاکستان نہیں پہنچ سکے۔
ترکی سے اب تک ایک خصوصی پرواز پاکستان آئی ہے جس میں 194 مسافر واپس لائے گئے تھے۔ لیکن اب بھی ہزاروں پاکستانی ترکی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
عمر مبین نے وائس آف امریکہ کو پاکستانی قونصلیٹ اور پاکستان میں موجود حکام کے ساتھ ہونے والی ‘واٹس ایپ چیٹ’ کے اسکرین شاٹس بھی بھیجے ہیں۔ جن میں صبر کی تلقین کی گئی ہے اور مستقبل میں خصوصی فلائٹ کے ذریعے وطن واپس لانے کا کہا گیا ہے۔
عمر کا کہنا ہے کہ اتنے مشکل حالات میں پاکستان سے پیسے منگوا کر 800 ڈالر کا ٹکٹ خریدا۔ لیکن واپسی کا کوئی ذریعہ نہیں بن رہا۔
مزید پڑھیے
کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ بیک وقت منفی اور مثبت بھی آ سکتی ہے؟
لاہور سمیت پنجاب کے شہروں میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ٹیسٹ رپورٹس کبھی مثبت اور کبھی منفی آ رہی ہیں۔ محکمۂ صحت پنجاب کے مطابق کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹس مختلف ہو سکتی ہیں۔
حال ہی میں ملتان سے ایک واقعہ سامنے آیا تھا جس میں اٹلی سے آنے والے ایک نوجوان کی نجی لیب سے کرونا وائرس ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی تھی۔ لیکن جب اسے محکمہ صحت کی ٹیم نے نشتر اسپتال لا کر کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا تو وہ منفی تھا۔ سو اسے اس کے گھر بھیج دیا گیا۔
وائس آف امریکہ کے نامہ نگار جمشید رضوانی کے مطابق ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے ملتان کے قرنطینہ میں 16 دن گزارنے کے بعد 1158 زائرین کا کرونا وائرس ٹیسٹ کرایا۔ لیکن ان کی حتمی رپورٹس آنے سے قبل ہی زائرین کو ان کے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
پنجاب حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ جب تک ان افراد کی حتمی رپورٹ نہ آئے، اس وقت تک انہیں گھر بھیجنے کے بجائے آئسولیشن یا قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے۔