خبردار! انٹرنیٹ پر آپ کی نگرانی کی جا رہی ہے
کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے صارفین کے انٹرنیٹ ڈیٹا کی نگرانی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں آن لائن پرائیوسی کا کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ فریڈم ایکٹوسٹس اور سوشل میڈیا ماہرین کو اس ڈیٹا کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ نخبت ملک کی رپورٹ
کرونا وائرس اور ایسٹر: پاکستان میں مسیحی برادری کو دوہری مشکل کا سامنا
عامر گِل مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی ہیں جو اسلام آباد کے ایک گھر میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے تھے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تو کچھ دن بعد ہی عامر گِل کو بغیر کوئی نوٹس دیے نوکری سے نکال دیا گیا۔
عامر کے علاوہ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد ایسے ہیں جو روز کما کر کھاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کا روزگار ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث مسیحی برادری کو کافی مشکلات ہیں۔ ایک طرف ان کا روزگار ختم ہو رہا ہے تو دوسری جانب انہیں ایسٹر کے تہوار کی فکر ستا رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے امداد کا انتظار کرتے عامر گِل نے اپنی کہانی سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں تک تو عام حالات میں بھی کوئی نہیں پہنچتا اور اب کرونا وائرس کے باعث تو امداد کی فراہمی ویسے ہی مشکل ہے۔
عامر اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ اسلام آباد کے ایک "بڑے سے گھر" میں صفائی کا کام کرتے تھے۔ ان کا زیادہ تر کام مختلف تقریبات کے بعد پورے گھر کو صاف کرنا ہوتا ہے۔
سندھ میں صورتِ حال خراب ہو رہی ہے: وزیر اعلٰی سندھ
پاکستان کے صوبہ سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ 104 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ تعداد صوبے میں ایک روز کے دوران سامنے آنے والے کیسز میں سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں صورتِ حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔
سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں کل 531 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 104 یعنی 20 فی صد مثبت آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ شرح بہت زیادہ اور ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جب تک لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل ہو رہا تھا، صورتِ حال بہتر تھی۔ وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھ افراد وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے ضلع ملیر میں لاک ڈاؤن کافی کمزور تھا جس کو مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی طرح حیدرآباد میں بھی کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں بھی لاک ڈاؤن سخت کیا جا رہا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں 371 لوگ صحت یاب ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پنجاب کے بعد سب سے زیادہ کرونا وائرس سے متاثرہ صوبہ سندھ ہی ہے جہاں اب تک کل کیسز کی تعداد 1300 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
کرونا وائرس سے پاکستان میں پہلے افغان مہاجر کی ہلاکت
پاکستان کے صوبہ خيبر پختونخوا کے علاقے مردان ميں مہلک کرونا وائرس کے باعث پہلے افغان مہاجر کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
افغانستان کے صوبہ بغلان سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ افغان مہاجر سات اپریل کو مردان ميڈيکل کمپليکس ميں داخل کرايا گيا تھا۔ اسپتال انتظاميہ کے مطابق انہيں گزشتہ کئی سالوں سے دمہ کی شکايت تھی۔
ہلاک ہونے والے شخص کے بھائی ہجرت نے بتايا کہ ان کا خاندان پاکستان ميں گزشتہ 40 سال سے آباد ہے۔ اور وہ مردان کے علاقہ بغدادہ کے رہائشی ہيں۔
انہوں نے بتايا کہ ان کا بھائی روزگار کے سلسلے ميں اسلام آباد ميں سبزياں بيچتا تھا۔ اور گزشتہ چند دنوں سے انہيں سينے ميں تکليف کی شکايت تھی۔ جس کے بعد وہ انہيں علاج کے سلسلے ميں پہلے پشاور اور بعد ميں مردان ميڈيکل کمپليکس لے گئے۔ ليکن ان کی تکليف بڑھتی گئی۔
ہجرت کے مطابق انہوں نے اپنے بھائی کا روایتی طريقوں سے نمازجنازہ اور بعد ميں فاتحہ خوانی کا انتظام بھی کيا۔ لیکن دوسرے دن شام کو پوليس نے ان کے گھر کا محاصرہ کيا کيونکہ ہمارے بھائی کا بعد از مرگ کرونا وائرس کا ٹيسٹ مثبت آيا تھا۔