خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 39 کیسز رپورٹ
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 656 ہو گئی ہے۔ صوبے میں 131 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کرونا کے مزید 39 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کے مشیر اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبے میں 32 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مختص کی گئی رقم میں بارہ ارب روپے محکمہ صحت، چھ ارب محکمہ ریلیف، پانچ ارب مختلف ٹیکسوں میں مراعات اور باقی امدادی رقوم کی تقسیم کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اجمل وزیر نے بتایا کہ محکمہ صحت کے لیے ڈیڑھ ارب کی لاگت سے حفاظتی سامان خریدا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں 275 قرنطینہ مراکز بنائے گئے ہیں۔ ان میں 18 ہزار افراد کو رکھا جا سکتا ہے۔
صوبے بھر میں 583 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جن کی تعداد کو مزید بڑھایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ابھی 450 سے زائد ٹیسٹ روزانہ ہو رہے ہیں۔ جن کی تعداد اس ماہ ایک ہزار سے بڑھائی جائے گی۔
سماجی پابندیاں ہٹانا زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہو گا: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور سماجی پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ اُن کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہو گا۔ لیکن وہ یہ فیصلہ کرنے سے قبل طبی ماہرین کی رائے کو ضرور مدنظر رکھیں گے۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سماجی پابندیاں نرم کرنے کے لیے ایک ایڈوائزری بورڈ آئندہ ہفتے تشکیل دیں گے۔
ناقدین صدر ٹرمپ پر کرونا وائرس کی وبا کو ابتدائی طور پر دبانے کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ البتہ لاک ڈاؤن سے امریکی معیشت کو پہنچنے والے بھاری نقصان کے باوجود وائٹ ہاؤس نے سماجی پابندیاں اپریل کے آخر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپریل کے بعد صدر ٹرمپ یہ طے کریں گے کہ ان پابندیوں میں توسیع کرنی ہے یا لوگوں کو بتدریج کام کی طرف واپس لانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ "مجھے معلوم ہے کہ یہ بڑا فیصلہ ہے۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ میں جو بھی فیصلہ کروں، وہ درست ثابت ہو۔"
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی معیشت کا پہیہ دوبارہ چلے۔ لیکن وہ حقائق کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث کراچی کی 11 یونین کونسلز سیل
سندھ حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کراچی شہر کی 11 یونین کونسل کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ایسٹ کا کہنا ہے کہ ان یونین کونسل کے تحت آنے والے علاقے کے رہائشیوں کو یہاں سے باہر جانے یا یہاں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس اور رینجرز کی نفری ان علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہے۔
ان یونین کونسلز میں یو سی چھ گیلانی ریلوے، یو سی سات ڈالمیا، یو سی آٹھ جمال کالونی، یو سی نو گلشن دو، یو سی 10 پہلوان گوٹھ، یو سی 12 گلزار ہجری، یو سی 13 صفورا، یو سی فیصل کینٹ، یو سی دو منظور کالونی، یو سی نو جیکب لائن، یو سی 10 جمشید کوارٹرز شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر احمد علی نے بتایا کہ جو لوگ ان علاقوں میں آنا چاہتے ہیں، یا یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں رات 12 بجے تک نقل و حمل کی اجازت دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیل کی گئی یونین کونسلز میں کچھ علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں مشتبہ کیسز کا خدشہ ہے۔ لہذٰا یہاں ٹیسٹنگ کی جائے گی۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں 20 ہزار، دنیا بھر میں سب سے زیادہ
کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ مسلسل جاری ہے اور ہفتے کے روز امریکہ یورپ کے ملک اٹلی کو پیچھے چھوڑ کر ایک ایسا ملک بن گیا ہے جہاں دنیا بھر میں اس عالمگیر مہلک وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ہفتے کی سہ پہر تک امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار سے آگے نکل چکی تھی اور مریض سوا پانچ لاکھ کے قریب تھے، جب کہ ہفتے کے روز اٹلی میں 619 ہلاکتیں ہوئیں جو ایک روز پہلے کے عدد 570 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اس طرح پہلے جو یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ یورپ میں مہلک وائرس کا زور ٹوٹ رہا ہے، ہلاکتوں اور مریضوں، دونوں کی تعداد میں اضافے سے بکھر گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورت حال کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد کے پیش نظر ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور ماہرین کے یہ اندازے درست ثابت ہو سکتے ہیں کہ امریکہ میں اموات ایک لاکھ سے بڑھ سکتی ہیں۔
امریکہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں نیویارک میں ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سب سے متاثرہ ریاست میں گھروں پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں حالیہ دنوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
ہفتے کے روز نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی ادارے جو 20 اپریل سے کھلنے تھے، اب پورے تعلیمی سال کے دوران بند رکھے جائیں گے۔
اس وقت امریکہ بھر میں سماجی فاصلے کو قائم رکھنے کے اصول پر عمل کیا جا رہا ہے جس کی میعاد 30 اپریل کو ختم ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اس کے بعد دفاتر کھولنے کا حکم دے کر ملک میں معمول کی زندگی بحال کرتے ہیں یا اس معیاد میں توسیع کرتے ہیں۔