- By جمشید رضوانی
ملتان کے نشتر اسپتال میں مریض سے ڈاکٹرز اور طبی عملے میں کرونا وائرس منتقل
ڈاکٹرز کی نمائندہ تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے کہا ہے کہ ملتان میں نشتر اسپتال کے طبی عملے اور ڈاکٹرز سمیت 18 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
پی ایم اے کے مطابق یہ ٹیسٹ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اسپتال میں دم توڑنے والے گردوں کے مرض مبتلا ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ہوئے۔
ہلاک ہونے والے شخص کے کرونا سے متاثر ہونے کے شبہے میں ایک دن پہلے ٹیسٹ کیا گیا تھا۔
مریض کی ہلاکت کے بعد آنے والی پورٹس میں اس شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔
اس کے بعد ملتان کے نشتر اسپتال کے اس اسٹاف کی نشاندہی کی گئی جو پچھلے چھ دن میں اس مریض کے علاج میں کسی نہ کسی طرح شامل رہا۔
ابتدائی طور نشتر اسپتال کے عملے کے 60 ارکان کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف شامل تھا۔
پی ایم اے ملتان کے مطابق ان میں سے 18 کی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹس مثبت آئی ہیں جن میں سے 6 ڈاکٹرز ہیں۔
وائرس کا اگلا بڑا نشانہ افریقہ ہوگا؟
عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ افریقہ کے دیہی علاقوں میں کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اگر براعظم افریقہ کے کمزور اور خستہ صحت کے نظام پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔
صحت کے عالمی ادارے نے تصدیق کی ہے افریقہ میں اب تک 8300 کیسز رجسٹر ہو چکے ہیں اور 400 کے قریب اموات ہوئی ہیں۔
اب تک دنیا میں جس بڑی تعداد میں کرونا پھیلا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ تعداد بظاہر کم نظر آتی ہے۔ تاہم یہ خطرہ موجود ہے کہ وائرس اس علاقے کو اپنے چنگل میں لے سکتا ہے۔
عالمی ادار صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے کہا ہے کہ اگر افریقی ممالک کو بروقت بین الاقوامی مدد فراہم نہ کی گئی تو یہ وبا قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں 911 کو موصول ہونے والی کالز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ
ایک ایسے موقع پر جب کرونا وائرس کی عالمی وبا نے نیویارک کو بری طرح اپنی پکڑ میں لیا ہوا ہے۔ 911 کو موصول ہونے والی کالز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
سینٹر کا کہنا ہے کہ انہیں ان دنوں ہر 15 سیکنڈز میں ایک کال آتی ہے۔ کال کرنے والے شخص کی آواز بھرائی ہوئی ہوتی ہے جب کہ وہ گڑگڑا کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس کا عزیز موت کے منہ میں جا رہا ہے۔ اس کی سانسیں رک چکی ہیں۔ خدارا جلدی سے مدد کریں۔
سینٹر کے مطابق حالیہ دنوں میں کالز کی تعداد معمول سے 40 گنا زیادہ آ رہی ہیں۔ کال کے جواب میں امدادی ٹیم بھیجنے میں ان دنوں 10 منٹ لگ رہے ہیں جب کہ اس سے پہلے 3 منٹ کے لگ جاتے تھے۔
کال وصول کرنے والا سوال پوچھ کر مرض کی سنگینی کا اندازہ لگاتا ہے۔ جن مریضوں کی حالت تشویش ناک نہیں ہوتی انہیں عموماً گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
آج کل کے حالات میں روزانہ 3300 کے لگ بھگ مریضوں کو اسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔ کال سینٹرز کے عملے پر اتنا بوجھ ہے کہ اکثر اوقات انہیں 16گھنٹوں کی شفٹ میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔
کرونا وائرس کے باعث بحریہ ٹاؤن بھی سپریم کورٹ سے رعایت کا خواہاں
بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے کراچی بحریہ ٹاؤن کے معاملات کے تصفیے کے لیے واجب الادا 460 ارب روپے کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے سپریم کورٹ سے ریلیف مانگ لیا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں عوام بحریہ ٹاؤن کی اقساط جمع نہیں کروا رہے۔ لہذا، دو سال کی موخر ادائیگی کی اجازت دی جائے۔
دوسری جانب، ملک ریاض نے قانونی اور تکنیکی وجوہات پر نجی چینل 'آپ نیوز' بند کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے 700 کے قریب ملازمین بیروزگار ہو گئے ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر درخواست میں بحریہ ٹاؤن کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاون ستمبر 2020 تک کی ایڈوانس قسطیں ادا کرچکا ہے۔ 460 ارب کی مجموعی رقم سے 57 ارب، 34 کروڑ روپے سے زائد اب تک جمع کرائے جا چکے ہیں، نومبر 2019 تک بحریہ ٹاون نے 32 ارب، 50 کروڑ روپے کی رقم جمع کرانا تھی، نومبر2019 تک جمع کرائے جانے والی رقم ستمبر 2020 تک کی اقساط کے برابر ہیں۔
درخواست میں بحریہ ٹاؤن نے 24 ارب، 84 کروڑ کی ایڈوانس رقم پر عدالت سے مارک اپ مانگ لیا ہے اور کہا ہے کہ ایڈوانس رقم پر 10.53 فیصد کے حساب سے مارک اپ کو آئندہ اقساط میں ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔