پاکستان میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 86 ہو گئی
پاکستان میں کرونا وائرس 24 گھنٹوں میں 14 افراد کی ہلاکت کے بعد وبا سے اموات کی مجموعی تعداد 86 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے حوالے اعداد و شمار جاری کرنے والی سرکاری ویب سائٹ 'کوئڈ' کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 5038 ہو گئی جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 254 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا۔ جس کے بعد اس میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا ہے۔
دوسری جانب سرکاری طور پر سامنے آنے والے کیسز میں سے 1.7 فی صد مریض ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستان میں اب تک 86 افراد وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں سرکاری طور پر پہلی ہلاکت کی تصدیق 17 مارچ کو کی گئی تھی جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14 افراد کی موت ہوئی ہے۔
کرونا وائرس، ممبئی پولیس نے آگاہی کے لیے فلمی ڈائیلاگ کا سہارا لے لیا
ممبئی پولیس نے عوام میں کرونا وائرس سے بچنے کی تدابیر کو موثر بنانے کے لیے شاہ رخ خان کی فلم 'میں ہوں نا' کے ویڈیو کلپ کا سہارا لے لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اس کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ شاہ رخ خان اپنے کالج پروفیسر کی جانب سے ان پر پھینکے گئے تھوک سے خود کو بچانے کے لیے ایک اسٹنٹ کا سہارا لیتے ہیں جسے دیکھ کر فلم بین واہ واہ کر اٹھتے ہیں۔
ویڈیو کلپ میں پیغام دیا گیا ہے کہ شاہ رخ خان کو بچنے کے لیے اب ایسے کسی اسٹنٹ کی ضرورت نہیں ۔۔۔ کیوں کہ ماسک ہے نا!
کرونا وائرس سے ایسٹر کی خوشیوں کو گہن لگ گیا
دنیا بھر میں مسیحی اتوار کو ایسٹر کا تہوار منا رہے ہیں تاہم کرونا کی وبا کے باعث اس کو روایتی انداز سے نہیں منایا جا رہا۔
- By سہیل انجم
لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے روکنے پر پولیس افسر کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
بھارت کی ریاست پنجاب میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے روکنے پر نامعلوم افراد نے پولیس پر حملہ کرکے ایک افسر کا ہاتھ قلم کر دیا۔ واقعے میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
پولیس کے مطابق ضلع پٹیالہ میں اتوار کی صبح سبزی منڈی میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہرجیت سنگھ پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
پنجاب پولیس کے سربراہ دنکر گپتا نے میڈیا کو بتایا کہ صبح چھ بجے ایک گاڑی کو سبزی منڈی آنے سے روکا جب کہ اس میں سوار افراد سے کرفیو پاس مانگا گیا جس کے جواب میں ان لوگوں نے پولیس پر حملہ کردیا۔
ان کے مطابق حملہ کرنے والے افراد سکھ تھے جن کے پاس روایتی اسلحہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آور بھاگ کر ایک گردوارے میں جا چھپے جس پر پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی۔ پولیس نے انہیں خود کو حکام کے حوالے کرنے کا کہا تاہم وہ فوری طور پر تیار نہیں ہوئے۔
سنکر گپتا نے بتایا کہ اس پر پولیس اور ثالثی کرنے والے افراد کے درمیان کئی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کی کامیابی کے نتیجے میں حملہ آوروں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان سے چاقو اور تلواریں لے کر اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔