طبی معائنہ کرنے کے لیے آنے والی ڈاکٹرز کی ٹیم یرغمال
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع بڈگام میں دہلی سے واپس آنے والی بیماری میں مبتلا ایک خاتون کا معائنہ کرنے ڈاکٹروں کی ٹیم ان کے گھر پہنچی تاہم انہیں مبینہ طور پر یرغمال بنا لیا گیا۔
پولیس اہلکار جب ان ڈاکٹروں کو بازیاب کرانے گئے تو ان پر پتھراؤ کیا گیا جس سے تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
خاتون کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے گھر کی کھڑکیوں کو توڑا اور ان سے بدتمیزی کی۔
ادھر اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ خاتون نے بیرون ملک سفر کی اطلاع سے پولیس کو لاعلم رکھا۔ جس پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے اور کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
کرونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیر اعظم اسپتال سے ڈسچارج
کرونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن کرونا وائرس سے مکمل صحت یاب ہونے تک اپنی سرکاری رہائش گاہ پر قیام کریں گے۔ جس کی تصدیق سرکاری اعلامیے میں بھی کی گئی ہے۔
خیال رہےکہ برطانیہ کے 55 سالہ وزیر اعظم کو پانچ اپریل کو اس وقت اسپتال منتقل کیا گیا تھا جب ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔
بورس جانسن کو چھ اپریل کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ نو اپریل تک رہے۔
سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ طبی ماہرین کی ہدایت کے مطابق وزیر اعظم فوری طور پر سرکاری امور انجام نہیں دیں گے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تاریخ میں توسیع، اظہر علی بھی مصباح کے حامی
پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے مصباح الحق کی جانب سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تاریخوں میں توسیع کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز میں کہا گیا تھا کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ شروع ہونے سے پہلے ہی کرونا وائرس سے بری طرح سے متاثر ہوئی ہے لہذا اس کے انعقاد کو تاریخوں میں توسیع کر دی جائے۔
اظہر علی کا خیال ہے کہ مستقبل میں کریکٹنگ ایکشن کو واپس لانا ہوگا۔ اگرچہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ بغیر تماشائیوں کے بند دروازوں میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے لیکن ایسے میں کھلاڑیوں کی صحت کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔ ان کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔
- By نوید نسیم
پنجاب یونیورسٹی میں پرندوں کی خوارک کے لیے برتن رکھ دیے گئے
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت لاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انتظامی بلاکس اور اور ہاسٹل بند ہونے کے باعث پرندوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے مختلف مقامات پر خوارک اور پانی کے برتن رکھے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے یونیورسٹی میں پرندوں کی خوراک کے ذرائع محدود ہو چکے تھے۔
ان کے بقول پرندوں کو شعبہ جات کے اساتذہ، ملازمین اور طلبہ اپنے طور پر خوراک ڈالتے تھے جب کہ جامعہ کی 80 سے زائد کینٹینز میں بچا ہوا کھانا بھی پرندوں کی خوراک کا بڑا ذریعہ تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ کینٹینز بند ہونے کے باعث پرندوں کی خوراک کا یہ ذریعہ ختم ہو چکا تھا۔