'بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کا اگلا مرحلہ 14 اپریل کو شروع ہو گا'
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بیرون ملک پھنسے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا آئندہ مرحلہ 14 اپریل کو شروع ہو گا۔
سرکار ی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ قریشی نے پیر کو کرونا وائرس سے متعلق پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کو بتایا کہ وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کو 9 خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا۔
وزیر خارجہ کے بقول اس وقت دنیا کے مختلف ملکوں میں 39 ہزار سے زاuد پاکستانی وطن واپس آنے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے متحدہ عرب اماارت میں بے روزگار ہونے والے کئی پاکستانی شہری بھی وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے اجلاس کو یہ نہیں بتایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اب تک بے روزگار ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد کتنی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ تبلیغی جماعت سے منسلک دو ہزار سے زائد پاکستانی انڈونیشیا، کینیا، یوگنڈا اور سوڈان سے وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔
وزیر خارجہ کے پارلیمانی کمیتی کو بتایا کہ کہ اس وقت نیپال میں 14 اور مالدیپ میں پھنسے ہوئے 4 پاکستانی شہریوں کی واپسی کو بھی یقینا بنایا جائےگا۔
وزیر خارجہ کے مطابق بیرون ملک پھنسے ہوئے 1600 سے زائد پاکستانی شہریوں کو 12 خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن واپس لایا گیا ہے۔
مصر میں کرونا سے ہلاک ڈاکٹر کی تدفین روکنے کی کوشش، 23 افراد گرفتار
مصر میں حکام نے ان 23 افراد کو حراست میں ہی رکھنے کا اعلان کیا ہے جن پر کرونا وائرس سے انتقال کرجانے والی ایک خاتون ڈاکٹر کی تدفین روکنے کا الزام ہے۔
مصر کے چیف پراسیکیوٹر نے پیر کو اپنے ایک بیان میں تدفین میں خلل ڈالنے کی کوشش کو "دہشت گردی" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ملزمان کی حراست میں 15 دن کی توسیع کردی گئی ہے تاکہ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف جاری تحقیقات مکمل کرلی جائیں۔
حکام کے مطابق 64 سالہ خاتون ڈاکٹر نہرِ سوئز کے کنارے آباد اسماعیلیہ شہر کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھیں جہاں جمعے کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔
خاتون ڈاکٹر کی میت تدفین کے لیے ان کے شوہر کے آبائی گاؤں منتقل کی جا رہی تھی کہ درجنوں دیہاتیوں نے ان کی تدفین روکنے کے لیے گاؤں کے قبرستان کی طرف جانے والی سڑک بلاک کردی تھی اور احتجاج کیا تھا۔
- By شمیم شاہد
پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل بھی وائرس کا شکار
خیبر پختونخوا کے محکمہ پبلک ہیلتھ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اکرام اللہ بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے ایک ٹوئٹ میں ڈاکٹر اکرام اللہ کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔
تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق وہ انتہائی بہادری سے اس مرض کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اکرام اللہ نے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد شروع کر دیا ہے۔
ڈاکٹر اکرام اللہ کے وبا سے متاثر ہونے کے بعد پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹوریٹ کو سیل کر دیا گیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ کے عملے کو بھی مختلف مقامات پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
اسپین میں عائد پابندیوں میں نرمی
اسپین میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عائد پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں جب کہ پیداواری اور تعمیراتی شعبے کے کارکنوں کو کام پر واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اسپین میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ حکام نے کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ ملازمین کو حفاظتی سامان فراہم کریں جب کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے ملازمین کام پر دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔
اسپین ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔
کرونا وائرس کے ایک لاکھ 70 ہزار کے قریب تصدیق شدہ کیسز اسپین میں سامنے آ چکے ہیں جب کہ حکام نے 17000 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات صرف صحت عامہ پر ہی نہیں بلکہ معیشت اور سماجی زندگی پر بھی پڑے ہیں۔
ان کے بقول ایسے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے جن سے اس وبا کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو مکمل تباہی سے روکنا بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس سے ملک میں روزگار بھی شدت سے متاثر ہوا ہے۔