جنوبی کوریا: اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے نئی ہدایات
جنوبی کوریا کے وزیر اعظم چنگ سوئے کیون نے کہا ہے کہ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کچھ اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی جائیں۔
خیال رہے کہ جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ پیر کو کرونا وائرس کے صرف 25 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
جنوبی کوریا میں اب تک 10 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ وبا سے 217 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ 7447 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 2873 افراد زیر علاج ہیں۔
'لوگ ڈرے ہوئے تھے، اس لیے خود جنازہ پڑھایا'
خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں تعینات ڈاکٹر ثناء اللہ نے کرونا کے باعث انتقال کرجانے والے ایک مریض کو غسل دینے کے بعد نہ صرف جنازہ خود پڑھایا بلکہ تدفین بھی خود کی۔ ڈاکٹر ثناء اللہ کے بقول مقامی لوگ خوف کا شکار تھے جس کے باعث انہوں نے میت کی آخری رسومات خود ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
امریکہ: 'معمول کی زندگی کے لیے عجلت سے وائرس پھیلنے کا شدید خطرہ'
امریکہ میں متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اگر کاروبار اور معمول کی زندگی شروع کرنے کے لیے عجلت کی گئی تو کرونا وائرس کے مزید پھیلنے کا شدید خطرہ ہو گا۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ میں معمول کی زندگی یکم مئی سے بحال کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔
انتھونی فاؤچی نے نشریاتی ادارے 'سی این این' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی خاطر سماجی فاصلے کی پابندی 30 اپریل سے ختم کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ آئندہ ماہ کسی وقت ملک میں کاروباری سرگرمیاں کسی قدر بحال کی جا سکیں گی تاہم اس کی صورت حال ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف ہو گی۔
انتھونی فاؤچی کے مطابق کاروباری سرگرمیاں کھولنے کا انحصار کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد پر ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی تدابیر کے باوجود مزید لوگ اس وائرس میں مبتلا ہوں گے۔
خیال رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے اب تک 22ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ 56 ہزار مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
تخمینوں کے مطابق امریکہ میں جولائی تک ہلاکتوں کی تعداد 60ہزار سے بڑھ سکتی ہے۔
کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمارداری کے لیے روبوٹ ایجاد
ملائیشیا کے سائنس دانوں نے 'میڈی بوٹ' نامی ایک ایسا روبوٹ ایجاد کیا ہے جو اسپتالوں کے وارڈ میں زیرِ علاج کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمار داری کرے گا۔
روبوٹ کی مدد سے ڈاکٹرز سمیت اسپتال کے تمام عملے کو انفیکشن کے خطرے سے دور رہنے میں بھی مدد ملے گی۔
'میڈی بوٹ' بیرل یا ایک بڑے ڈرم کی شکل سے مشابہہ ہے جس کی لمبائی ڈیڑھ میٹر اور رنگ سفید ہے۔ اس میں کیمرا اور اسکرین نصب ہے۔
میڈی بوٹ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے جس کا مقصد کرونا وائرس کے باعث اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملے کے کام میں کمی لانا ہے۔