وبا کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کرنے میں امریکہ، روس اور جرمنی کی سبقت
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ ٹیسٹ امریکہ میں کیے جا رہے ہیں۔
اعداد وشمار جمع کرنے والی ویب سائٹ 'ورلڈو میٹرز' کے مطابق امریکہ میں اب تک 29 لاکھ 44ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
امریکہ میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعداد پانچ لاکھ 87 ہزار کے قریب ہے جب کہ حکام نے 23ہزار 600 سے زائد اموات کی تصدیق کی ہے۔
امریکہ کے بعد سب سے زیادہ ٹیسٹ روس میں کیے گئے ہیں جن کی تعداد 14 لاکھ ہے۔ روس میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 21ہزار ہے جب کہ صرف 170 افراد کی موت ہوئی ہے۔
جرمنی ٹیسٹ کرنے میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں 13 لاکھ 17 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جب کہ حکام نے ایک لاکھ 30 ہزار افراد میں وبا کی تصدیق کی ہے۔ وائرس سے 3194 افراد کی موت بھی ہوئی ہے۔
اٹلی ہلاکتوں میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے یہاں 20ہزار 400 افراد وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ایک لاکھ 59 ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے لیے 10 لاکھ 46 ہزار ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی ریاست متحدہ عرب امارات (یو اےای) میں چھ لاکھ 48 ہزار، اسپین میں چھ لاکھ، جنوبی کوریا میںپانچ لاکھ 27 ہزار، کینیڈا میں چار لاکھ 37 ہزار، ترکی میں چار لاکھ 10 ہزار جب کہ برطانیہ میں تین لاکھ 67 ہزار افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں 15 ہزار کے قریب افراد وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ایک لاکھ 36 ہزار مریض سامنے آئے ہیں تاہم ملک میں صرف تین لاکھ 33 ہزار ٹیسٹ کیے گئے۔
اسی طرح ایران میں 88ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ حکام نے 4585 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تاہم یہاں بھی صرف دو لاکھ 75 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
- By یوسف جمیل
کرونا وائرس کی وجہ سے بھی 'ریڈ زون' بننے لگے
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے موسم گرما کے صدر مقام سرینگر میں کئی علاقوں کو کرونا وائرس کی وجہ سے 'ریڈ زون' قرار دیا گیا ہے۔
ان علاقوں میں سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں تاکہ علاقے میں کسی بھی قسم کی نقل وحرکت کی کوشش نہ کی جائے۔
سرینگر کی ضلعی انتظامیہ نے ایک اور علاقے نٹی پورہ کو 'ریڈ زون' قرار دے کر پولیس کی مدد سے سیل کر دیا ہے۔
سرینگر کے علاقے نوگام میں رضاکار وبا پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کے طور پر سڑکوں پر موجود ہیں۔
حکام کے مطابق جموں و کشمیر میں اب تک 47 رہائشی بستیوں کی مکمل ناکہ بندی کی گئی جا چکی ہے۔
کشمیر میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 290 ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 29 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
جموں و کشمیر میں 4 افراد وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ حکام نے 29 افراد کے صحت یاب ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
بھارت نے کشمیر میں 16 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا جس کو 27 روز ہو چکے ہیں۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں 19 دن کی مزید توسیع کا بھی اعلان کر دیا ہے جس کے بعد اب پابندیاں تین مئی تک برقرار رہیں گی۔
بیجنگ کو کرونا سے بچانے کی کوششیں، مزید سخت ہدایات جاری
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت پابندیوں سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق چین میں حکام کی جانب سے عالمگیر وبا پر کافی حد تک قابو پانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ چین میں کرونا وائرس کے زیادہ تر کیسز میں اضافہ بیرون ملک سے آنے والوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
دارالحکومت بیجنگ ملک کے طاقت کا مرکز ہے اور ریاست کے تمام امور کے فیصلے یہیں ہوتے ہیں۔ بیجنگ کی انتظامیہ نے شہر میں داخل ہونے والے ہر شخص کے لیے 14 روزہ قرنطینہ لازمی قرار دیا ہے۔
'پاکستان کی معیشت مزید تنزلی کا شکار ہو سکتی ہے'
عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات سے پاکستان کی معیشت مزید تنزلی کا شکار ہو سکتی ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) منفی 1.3 فی صد تک کم ہو سکتی ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ برائے مالی سال 2020 میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے بحران کے دوران دنیا بھر کی طرح پاکستان کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جس کے باعث ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو منفی 1.3 فی صد تک کم ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 1952 میں تاریخ کی کم ترین سطح منفی 1.80 فیصد رہی تھی۔
اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم نے سال 2020 کے لیے عالمی معیشت کی شرح نمو کو 2.9 سے کم کرکے 2.4 فی صد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وبا کا پھیلاؤ عالمی شرح ترقی کو 1.5 فی صد تک سست کر سکتا ہے۔