عبادت کے طریقے بھی تبدیل، حفاظتی اقدام ضروری
کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں دنیا کے اکثر ممالک میں لاک ڈاؤن جاری ہے وہیں زندگی کے مختلف امور انجام دینے کے طریقے بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والے کچھ مذہبی پیشوا کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ایک پلاسٹک شیٹ کے پیچھے بیٹھ کر عبادت میں رہے ہیں۔
مذہبی پیشواؤں کے اس اقدام کا مقصد وبا سے بچتے ہوئے عبادت جاری رکھنا ہے۔
چین میں موجود پاکستانی طلبہ پریشان
چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ اسی شہر سے کرونا وائرس کا آغاز ہوا تھا تاہم اب اسے کھول دیا گیا ہے اور معاشی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
ووہان شہر میں دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے ہزاروں طلبہ بھی مختلف تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ پاکستانی طلبہ کئی ماہ تک ذہنی کرب اور اپنوں سے دوری کی تکلیف میں مبتلا رہے۔
اب جب کہ ووہان میں کرونا وائرس پر کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں اس کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں ان طلبہ کو یہ فیصلہ درپیش ہے کہ وہ پاکستان واپس جائیں یا چین میں ہی مقیم رہیں۔
پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے توسیع کا اعلان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن آگے لے کر جا رہے ہیں۔ آئندہ دو ہفتے بھی لاک ڈاؤن رہے گا۔
کرونا وائرس جتنا پاکستان میں پھیلنے کے اندازے تھے اس کے مقابلے میں صرف 30 فی صد پھیلا ہے۔ ملک میں عوامی اجتماعات کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔
قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اندازے کے مطابق اب تک 190 سے زائد افراد کی ہلاکت ہونی چاہیے تھی تاہم اموات اس سے نصف ہیں۔
انہوں نے امریکہ، اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کبھی بھی پھیل سکتا ہے اس لیے احتیاط لازم ہے۔ اگر پاکستان میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا تو صحت کا نظام اس کے قابل نہیں ہے۔
وزیراعظم نے تعمیرات کی صنعت کو کھولنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ تعمیراتی شعبے کو کھول رہے ہیں، آرڈیننس بھی جاری ہوگا۔
لاک ڈاؤن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مشکلات کا احساس تھا۔ لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے دکان دار بے روزگار ہو گئے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر دہاڑی دار طبقے کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ساری دنیا میں لاک ڈاؤن ہوچکےہیں۔ پاکستان نے بھی لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا کرونا ٹیسٹ منفی
سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کے نائب قاصد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد چیف جسٹس اور ان کے اہل خانہ کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا جو منفی آیا ہے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے ایک نائب قاصد میں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمٰی کے سٹاف ممبر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
نائب قاصد احسان کا علامات ظاہر ہونے پر ٹیسٹ کرایا گیا تھا، ابتدائی طور پر رپورٹ میں شک ظاہر کیا گیا تھا لیکن دوسری بار یہ ٹیسٹ کیے جانے پر رپورٹ مثبت آئی۔ جس کے بعد چیف جسٹس کے خاندان کے افراد اور سیکرٹری کے کرونا ٹیسٹ بھی کرائے گئے، تمام افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
سپریم کورٹ ترجمان کے مطابق نائب قاصد احسان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر اسے پولی کلینک آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اسے علاج معالجے کی سہولیات دی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں کرونا کے کیسز کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے اور حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کیے جانے والے لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔