رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:13 15.4.2020

ووہان میں موجود پاکستانی طلبہ کے لیے فیصلے کی گھڑی

چین کے شہر ووہان میں حالات معمول پر آرہے ہیں۔ اسی شہر سے کرونا وائرس کا آغاز ہوا تھا تاہم اب اسے کھول دیا گیا ہے اور معاشی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

ووہان شہر میں دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے ہزاروں طلبہ بھی مختلف تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ پاکستانی طلبہ کئی ماہ تک ذہنی کرب اور اپنوں سے دوری کی تکلیف میں مبتلا رہے۔

اب جب کہ ووہان میں کرونا وائرس پر کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں اس کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں ان طلبہ کو یہ فیصلہ درپیش ہے کہ وہ پاکستان واپس جائیں یا چین میں ہی مقیم رہیں۔

پاکستان کی حکومت نے طلبہ اور اُن کے والدین کی اپیل کے باوجود وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ان طلبہ کو واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ البتہ حکومتِ پاکستان خصوصی پروازوں کے ذریعے دیگر ممالک سے پاکستانیوں کو واپس لا رہی ہے۔

میڈیکل کی طالبہ حفصہ طیب نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ وہ پروازیں شروع ہونے کے اعلان کا انتظار کر رہی ہیں۔ جیسے ہی یہ اعلان ہوا وہ پہلی پرواز سے پاکستان جانا چاہیں گی۔

لیکن بہت سے پاکستانی طلبہ ایسے بھی ہیں جو چین میں رہنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ اُن کا موقف ہے کہ پاکستان میں حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔ البتہ چین نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک نظام وضع کر لیا ہے۔ لہذٰا بہتر یہی ہے کہ چین میں ہی رہا جائے۔

03:17 15.4.2020

'طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم نہ گئیں تو صحت کا شعبہ بیٹھ جائے گا'

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر کرونا مریضوں کی تعداد بڑھتی رہی اور طبی عملے کو حفاظتی کٹس کی فراہمی ممکن نہ بنائی گئی تو صحت کا شعبہ مکمل طور پر بیٹھ جانے کا خدشہ ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری، ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا ہے کہ حفاظتی کٹس کے بغیر علاج کرنے کے باعث اب تک 70 سے زائد طبی عملہ، جس میں ڈاکٹر اور نرسیں بھی شامل ہیں، کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ نشتر ہسپتال ملتان میں اب تک 16 ڈاکٹروں اور نرسوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اسی طرح کراچی اور اسلام آباد میں بھی کئی ڈاکٹر وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کو ان کی تنظیم نے چین میں وائرس سے ہلاکتوں پر متنبہ کیا تھا کہ ابھی سے حفاظتی انتظامات کئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وائرس سے لڑنے میں بغیر حفاظتی انتظامات کے ڈاکٹر محاذ پر کھڑے ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک کے تمام ہسپتالوں میں جہاں کرونا کے مریضوں کو رکھا گیا ہے وہاں حفاظتی کٹس کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب کئی فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کے علاوہ فیشن ڈیزانئیرز بھی اس میں طبی عملے کی مدد کے لئے میدان میں نظر آ رہے ہیں۔

03:20 15.4.2020

رمضان کے اجتماعات سے متعلق فیصلہ جلد کیا جائے گا: نور الحق قادری

رمضان المبارک میں مذہبی اجتماعات کے حوالے سے، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ تراویح، اعتکاف اور نماز جمعہ سمیت باجماعت نمازوں کے بارے پورے ملک کیلئے متفقہ فیصلہ کیا جائے گا۔

اپنے پالیسی بیان میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس بارے میں فیصلہ 18 اپریل کو علمائے کرام کے ساتھ مشاورت اور مفاہمت سے کیا جائے گ،ا اور یہ کہ انفرادی اور مقامی فیصلوں سے اجتناب کر کے اتفاق اور اتحاد کے فضا کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کرونا سے محفوظ اور عبادات سے بھرپور رمضان کیلئے اقدامات کرے گی، اور اس ضمن میں تمام مسالک کے جیّد علما اور دینی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جائیگا۔

پیر نور الحق قادری نے بتایا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں صوبائی گورنروں اور صدر آزاد کشمیر ویڈیو لنک پر شریک ہوں گے جبکہ وزیر مذہبی امور، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، ڈاکٹر ظفر مرزا اور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل صدر پاکستان کی معاونت کریں گے۔

ادھر، پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن کا اطلاق مساجد پر نہیں ہوگا اور منگل سے باجماعت نماز کی ادائیگی کی جائے گی۔

03:22 15.4.2020

عالمی معیشت کو 30ء کی دہائی کے بعد بدترین بحران کا سامنا

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ 1930ء کی دہائی کے بعد، کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کیلئے یہ سال بد ترین ثابت ہوگا۔

آئی ایم ایف نے منگل کے روز کہا ہے کہ عالمی معیشت کے تین فیصد سکڑنے کا امکان ہے، جو کہ سن 2009ء کی کساد بازاری کے مقابلے میں، جو صفر اشاریہ ایک تھی، بہت زیادہ ہے۔ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پہلے، توقع کی جا رہی تھی کہ سن 2021ء میں عالمی معیشت کی شرح نمو پانچ اشاریہ آٹھ ہوگی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ سال معیشت کے دوبارہ بحال ہونے کے امکانات بے یقینی کا شکار ہیں۔

آئی ایم ایف کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ عالمی گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ نو ٹریلین ڈالر تک ہو سکتا ہے، جو کہ جرمنی اور جاپان کی معیشتوں سے زیادہ ہے۔ جی ڈی پی کسی بھی معاشی آؤٹ پُٹ کا وسیع تر احاطہ کرتی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG