رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:29 15.4.2020

پی آئی اے نے 23 پروازوں کے ذریعے 7700 برطانوی شہریوں کو برطانیہ پہنچایا

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی 'پی آئی اے' کی 23 پروازوں کے ذریعے اب تک 7,700 سے زائد برطانوی شہریوں کو برطانیہ بھیجوایا جا چکا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، وزیر خارجہ قریشی نے یہ بات منگل کو اپنے برطانوی ہم منصب ڈومینک راب سے ٹیلی فون رابطے کے دوران انہیں بتائی۔ اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سےبین الاقوامی پروزایں کے معطل ہونے کے باعث واپسی کے منتظر شہریوں کے معاملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

ڈمینک راب نے وزیر خارجہ قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان میں باقی رہ جانے والے برطانوی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے خصوصی پروازیں چلانا چاہتا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نےبرطانوی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان اس سلسلے میں برطانیہ کی ہر ممکن معاونت کرنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ جاپان اور تھائی لینڈ میں پھنسے ہوئے 267 پاکستانی شہریوں کو پی آئی اے کی ایک پرواز کے ذریعے پیر کو وطن واپس لایا گیا۔

03:31 15.4.2020

معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانے کا ایک منصوبہ زیر غور ہے: ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ انہیں ملک بھر میں کرونا وائرس کے سلسلے میں جاری لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

کرونا وائرس کے سلسلے میں یومیہ بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانے کے ایک منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے، جو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے سبب انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ اس مہینے کی 30 تاریخ تک یہ لاک ڈاؤن طے ہے اور اب یکم مئی سے اسے کھولنے کا اشارہ دیا جا رہا ہے۔

جب نامہ نگاروں نے یہ سوال کیا آیا ان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ریاستوں میں گھروں تک محدود رہنے کے ریاستی حکومتوں کے حکم کو معطل کرکے لاک ڈاؤن کو ختم کرسکیں، تو انہوں نے کہا کہ جب کوئی امریکہ کا صدر بنتا ہے تو اس کا اختیار مطلق ہوتا ہے اور گورنرز یہ بات جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاستوں کے ساتھ ملکر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے قیام کی بنیادی دستاویز میں ایسی شقیں موجود ہیں جن کے تحت انہیں یہ اختیار حاصل ہے۔

تاہم، قانونی ماہرین کی اس بارے میں رائے مختلف ہے کہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی ریاست یا شہر میں عوامی صحت کے سلسلے میں مقامی حکومت کی لگائی ہوئی پابندی کو اٹھا سکیں۔

03:35 15.4.2020

کرونا وائرس کس حد تک جان لیوا ثابت ہو رہا ہے؟

پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ اس مرض کے مختلف گوشوں کے بارے میں طرح طرح کے اندازے اور تخمینے لگائے جا رہے ہیں۔

ایک عام تخمینہ یہ ہے کہ مرض کا شکار ہونے والوں میں سے اعشاریہ صفر پانچ سے لے کر تین اعشاریہ صفر چار فی صد مریض موت کا شکار ہوتے ہیں۔

اتنے بڑے فرق کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس وبا سے مرنے والوں کی درست تعداد رپورٹ نہیں ہوتی۔ پھر یہ تعین کرنا بھی مشکل ہے کہ کون کرونا کا شکار ہوا اور کون نہیں۔

عالمی ادرہ صحت کے مطابق، امراض قلب کی وجہ سے ہر سال پوری دنیا میں پچانوے لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، دوسرے جان لیوا امراض بھی ہیں۔ بعض کا تعلق سانس اور پھیپڑوں کی بیماری سے ہے۔ مثال کے طور پر انفلوئنزا اور نمونیا۔ کرونا میں بھی یہی علامات پائی جاتی ہیں۔ دنیا کے ہر ملک کے پاس ایسے طریقے موجود نہیں کہ وہ ان کو الگ الگ طریقوں سے جانچ کر رپورٹ کریں۔

اس لیے بنیادی سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ درست تعداد کیا ہے؟ یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب دنیا کے ہر فرد کا اس مرض کا ٹیسٹ ہو۔ فی الحال اس کا امکان دور دور نظر نہیں آتا۔

03:37 15.4.2020

کرونا وائرس سے پناہ گزینوں کے بچاو کے لئے 255 ملین ڈالر درکار

ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور اس سے محفوظ رہنے کے طریقوں میں سب سے اہم سماجی فاصلہ اور ہاتھوں کو بار بار صابن اور صاف پانی سے دھونا ہے، دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ان اقدامات پر عمل کرنا ناممکن حد تک مشکل ہے۔

اقوام متحدہ کا پناہ گزینوں کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) اپنے طور پر ان پناہ گزینوں کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کر رہا ہے۔

ادارے کے ترجمان، بابر بلوچ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابھی تک صرف جرمنی میں مقیم کچھ پناہ گزیں اس مرض میں مبتلا پائے گئے۔ لیکن، یو این ایچ سی آر تمام ملکوں سے جہاں پناہ گزیں مقیم ہیں کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے نیشنل ایکشن پلان میں ان پناہ گزینوں کو بھی شامل کریں۔

انہوں کہا کہ پاکستان اور ایران نے اس سلسلے میں مثبت جواب دیا ہے اور بقیہ ممالک بھی تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر نے اس مرحلے پر ان پناہ گزینوں کے لئے دنیا کے ملکوں سے 255 ملین ڈالر کی مدد کی اپیل کی ہے اور کئی ملکوں کی جانب سے مثبت جواب بھی مل رہا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG