امریکی انتظامیہ اور 6 ایئرلائنز کا 25 ارب ڈالر پیکیج پر اتفاق
امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو بتایا ہے کہ ملک کی اہم ایئر لائنز نے اپنے عملے کو تنخواہ دینے کے لیے اصولی طور پر 25 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج پر اتفاق کیا ہے۔ اس کا مقصد کرونا وائرس کی وجہ سے سفر بند ہوجانے اور بدتر معاشی صورتحال سے نکلنے میں مدد دینا ہے۔
چھ بڑے فضائی اداروں امریکن ایئرلائنز گروپ، یونائٹڈ ایئرلائنز ہولڈنگز، ڈیلٹا ایئرلائنز، ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز، جیٹ بلو ایئرویز اور الاسکا ایئرلائنز کے علاوہ کئی چھوٹی ایئرلائنز نے بھی اس پیکیج سے اتفاق کیا ہے۔
محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہم ایئرلائنز کے ساتھ مل کر معاملات طے کرنے اور جلدازجلد رقوم جاری کرنا چاہتے ہیں۔''
گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خزانہ کے طے کردہ ضابطہ کار کے مطابق بڑی ایئرلائنز جاری کردہ فنڈ کا 30 فیصد حکومت کو واپس کریں گی، جو قرضے کی اصل رقم کے 10 فیصد کے مساوی ہوگا۔
یہ رقوم تنخواہ کی ادائیگی اور دیگر فوائد کی مد میں ہوں گی جو 2019ء کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے لیے ہیں۔ امریکن اور یونائٹڈ کو تقریباً چھ چھ ارب ڈالر؛ ڈیلٹا کو تقریباً 5.6 ارب، سائوتھ ویسٹ کو اندازاً 4 ارب جبکہ جیٹ بلو اور الاسکا ایئرلائنز کو 1.2 ارب ڈالر دیے جائیں گے۔
امریکی ایئرلائنز 25 ارب ڈالر کے قرض کے لیے علیحدہ درخواست دے سکیں گی جو حکومت کے 2.3 ٹریلین ڈالر کے ریلیف پیکیج میں سے فراہم کیے جائیں گے۔
20 لاکھ مریض، سوا لاکھ اموات
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد لگ بھگ 20 لاکھ اور اموات کی تعداد سوا لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں چھ لاکھ مریضوں اور 26 ہزار ہلاکتوں کا تعلق امریکہ سے ہے۔
کینیڈا اور ترکی میں پہلی بار ایک دن میں سو سے زیادہ لوگ مرے ہیں، جبکہ ایران میں ایک مہینے کے بعد پہلی بار 24 گھنٹوں میں سو سے کم اموات ہوئی ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، منگل کو عالمگیر وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی۔ ان میں 83 ہزار اموات یورپ میں ہوئی ہیں۔
24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 778، فرانس میں 762، اٹلی میں 602، اسپین میں 499، جرمنی میں 301، بیلجیم میں 254، برازیل میں 204، نیدرلینڈز میں 122، کینیڈا میں 118، سویڈن میں 114 اور ترکی میں 107 افراد کا انتقال ہوا۔ ایران میں 98 اور انڈونیشیا میں 60 ہلاکتیں ہوئیں۔
امریکہ میں منگل کی شام تک 2348 اموات ہوچکی تھیں اور کل تعداد 26 ہزار تک پہنچ گئی تھیں۔ اٹلی میں کل تعداد 21067، اسپین میں 18255، فرانس میں 15729 اور برطانیہ میں 12107 ہے۔
ایران میں 4600، بیلجیم میں 4100، جرمنی میں 3500، چین میں 3300، نیدرلینڈز میں 2900، برازیل میں 1500، ترکی میں 1400، سوئزرلینڈ میں 1100 اور سویڈن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔
امریکہ میں سب سے زیادہ متاثر ریاست نیویارک ہے جہاں 2 لاکھ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور 10800 سے زیادہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ نیوجرسی میں 2800، مشی گن میں 1700 اور لوزیانا میں ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کی امداد روکنے کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کرونا وائرس بحران میں اس ادارے نے انتہائی بدنظمی کا مظاہرہ کیا اور اس کے پھیلاؤ کو چھپایا۔
وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ڈبلیو ایچ او کی نااہلی کی وجہ سے دنیا میں کرونا وائرس کے کیسز 20 گنا زیادہ ہوئے۔ وہ اپنی بنیادی ذمے داری انجام دینے میں ناکام رہا، اس لیے اس کا احتساب ہونا چاہیے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ڈبلیو ایچ او نے چین پر سفری پابندیاں لگانے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
فروری تک ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ جن ملکوں میں کرونا وائرس کے کیسز ہیں، وہاں سفری پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا مؤثر طریقہ نہیں ہے۔
پاکستان میں ہلاکتیں 100 سے متجاوز